مے اور سٹرجن کی ٹانگوں پر مضمون یا بھڑوں کا چھّتا

Image caption اخبار ڈیلی میل کا صفحۂ اول

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے صفحۂ اول پر چھپنے والے اس مضمون کو شدید تنقید کا سامنا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بریگزٹ کو بھول جائیں اور یہ بتائیں کہ آخر ٹریزا مے اور نکولا سٹرجن کے درمیان 'لیگز اِٹ' یعنی ٹانگوں کا مقابلہ کس نے جیتا۔

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے اور سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن کی بریگزٹ اور سکاٹ لینڈ میں آزادی کے لیے دوسرے ریفرینڈم جیسے معاملات پر بات چیت کے لیے ملاقات ہوئی تھی۔

اخبار پر اس لیے شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ اس نے ان معاملات پر خبر دینے کے بجائے ان راہنماؤں کی ٹانگوں پر مضمون شائع کیا۔

ڈیلی میل نے ان دونوں لیڈروں کے ظاہری حلیے پر لکھے مضمون کو ایک سے زیادہ صفحات پر جگہ دی۔

اس تنقید کے جواب میں ڈیلی میل کا کہنا ہے کہ ’خدا را مزاح کو سمجھنا سیکھیں۔‘

سارہ وائن کے اس مضمون کی سرخی تھی 'بریگزٹ کو چھوڑیئے یہ بتائیے کہ لیگز اِٹ (ٹانگوں کا مقابلہ) کون جیتا۔‘ اس کے ساتھ ان دونوں لیڈروں کی گلاسگو کے ایک ہوٹل میں ملاقات کی تصویر ہے۔

Image caption لیبر پارٹی کے لیڈر جیریمی کوربن کا کہنا تھا کہ 'ہم 2017 میں رہ رہے ہیں۔ جنسی امتیاز اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ ڈیلی میل کو شرم آنی چاہیے۔'

سارہ وائن نے لکھا کہ 'اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ ان کے طبعی اسلحہ خانے میں ان کی ٹانگیں ان کا سب سے اہم ہتھیار ہیں۔‘

سارہ وائن کا کہنا تھا کہ نِکولا سٹرجن کے بیٹھنے کا انداز ’سیدھا سیدھا دعوت نظارہ دیتا ہے۔‘

سابق وزیر تعلیم نِکی مورگن نے ردعمل میں ٹویٹ کیا کہ 'ہماری دو اعلیٰ سیاسی خواتین شخصیات پر ان کی بات چیت کی وجہ سے نہیں بلکہ ٹانگوں کی وجہ سے تبصرہ کیا جا رہا ہے۔'

انھوں نے بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ وزیر اعظم پر منحصر ہے کہ وہ اس معاملے سے کس طرح نمٹتی ہیں۔ لیکن دو انتہائی سینیئر خواتین راہنما انتہائی اہم معاملات پر بات کر رہی تھیں اور ایک قومی اخبار نے سمجھتا ہے کہ جو کچھ اس نے کیا وہ مناسب تھا۔'

لیبر پارٹی کے لیڈر جیریمی کوربن بھی ان سیاست دانوں میں شامل ہیں جنہوں نے ڈیلی میل پر تنقید کی ہے۔

ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ 'ہم 2017 میں رہ رہے ہیں۔ جنسی امتیاز اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ ڈیلی میل کو شرم آنی چاہیے۔'

لیبر پارٹی کے سابق سربراہ ایڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ ’1950 کا عشرہ کہہ رہا ہے کہ میری ہیڈلائن واپس کرو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’سٹالن، چرچل اور روزویلٹ بھی 'اچھی ٹانگوں' کے مالک تھے۔‘

گارڈیئن اخبار کے سابق ایڈیٹر ایلن رسبرجیر اس تصویر کو تاریخ میں لے گئے اور کہا کہ لگتا ہے کہ سٹالن، چرچل اور روزویلٹ بھی 'اچھی ٹانگوں' کے مالک تھے۔

ڈیلی میل نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ سارہ وائن کا یہ مضمون سنجیدہ سیاسی خبر کے ہمراہ اخبار میں ایک طرف ہلکی پھلکے مضمون کے طور پر شائع کیا گیا تھا اور ناقدین کو 'مزاح کو سمجھنے کی ضرورت ہے'۔

اخبار کہتا ہے کہ 'کیا ایسا کوئی اصول ہے کہ سیاسی کوریج پھیکی ہی ہونی چاہیے۔'

ڈیلی میل نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر مرد سیاستدانوں کی وضع قطع پر بھی تبصرہ کرتے ہیں 'جیسا کہ کیمرون کی بڑھتی ہوئی توند، اوسبورن کے بال، کوربن کے کپڑے اور یہاں تک کے بورس کی ٹانگیں۔'