علیحدگی کا آغاز: بریگزٹ کا خط یورپی اتحاد کے حوالے

برسلز تصویر کے کاپی رائٹ AFP

برطانیہ نے 44 سال کی ممبر شپ کے بعد باضابطہ طور پر یورپی یونین سے علیحدگی کا نوٹیفیکیشن دے دیا ہے۔

برطانیہ کے برسلز میں سفیر نے یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو نوٹیفیکیشن پیش کیا جس میں لزبن ٹریٹی کی شق 50 کو نافذ کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے بدھ کی صبح برطانیہ کی وزیراعظم ٹریزا مے نے یورپی یونین سے نکلنے کا عمل شروع کرنے کے خط پر دستخط کیے تھے جس کے بعد لزبن آرٹیکل 50 کے تحت برطانیہ کا یورپی یونین سے نکلنے کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔

بریگزٹ کا فیصلہ، اب آگے کیا ہو گا؟

’بریگزٹ، الیکشن کے بعد کٹر قوم پرستی بڑھ سکتی ہے‘

وزیراعظم ٹریزا مے دارالعوام میں اپنے بیان میں ارکان پارلیمان کو اس بارے میں آگاہ کریں گی کہ 'یہ وقت ملک میں یکجہتی کا ہے۔'

خیال رہے کہ گذشتہ جون میں منعقدہ ریفرینڈم میں اکثریت نے برطانیہ کے یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

وزیراعظم ٹریزا مے کا خط ڈونلڈ ٹسک کو برطانوی وقت کے مطابق 12:30 بجے یورپی یونین میں برطانوی سفیر سر ٹیم بورو کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔

اس کے بعد وزیراعظم کابینہ کے اجلاس کی صدارت کریں گی اور ارکان پارلیمان کو اس بارے میں آگاہ کریں گی کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

وہ وعدہ کریں گی کہ مذاکرات کے دوران 'برطانیہ کے ہر باسی کی نمائندگی کی جائے گی' جن میں برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہری بھی شامل ہیں جن کے مستقبل بریگزٹ کے بعد سے غیرواضح ہے۔

وہ کہیں گی: 'میرا سخت عزم ہے کہ میں اس ملک میں رہنے والے ہر شخص کے لیے بہترین معاہدہ کروں۔ کیونکہ ہمیں اس سفر پر مواقع بھی پیش آئیں گے اور ہماری مشترکہ اقدار، مفادات اور مقاصد ہمیں ایک نقطے پر لے آئیں گے۔'

خیال رہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آرٹیکل 50 کے تحت یورپی یونین سے بریگزٹ سے متعلق دو سال مذاکرات کا آغاز کریں گی جن میں یوپی یونین کے ساتھ نئے تعلقات کے حوالے سے بھی بات ہو گی۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے کرسمس سے پہلے کہا تھا کہ وہ بریگزٹ کا عمل مارچ کے اختتام تک شروع کرنا چاہتی ہیں لہٰذا وہ 25 مارچ کو ہونے والی اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔

برطانوی ایوان بالا میں 118 ووٹوں کے مقابلے میں 274 ووٹوں سے یورپی یونین چھورنے کے لیے بل کو بنا ترمیم کے منظور کیا گیا۔ جبکہ اس سے پہلے ایوان زیریں میں 122 کے مقابلے 494 ارکان پارلیمان نے وزیراعظم ٹریزا مے کو بریگزٹ مذاکرات شروع کرنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریفرینڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی ہونے کے حق میں ووٹ دیا تھا

خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے کے سوال پر ہونے والے تاریخی ریفرینڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں