موصل میں ’عام شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار امریکہ ہو سکتا ہے'

موصل تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جدیدہ میں منہدم عمارتوں سے درجنوں لاشیں برآمد ہوئی ہیں

ایک امریکی جنرل نے کہا ہے کہ 17 مارچ کے فضائی حملے میں ممکنہ طور پر اتحادی افواج کا کردار ہو سکتا ہے جس میں 100 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

لیفٹنینٹ جنرل سٹیون ٹاؤن سینڈ نے کہا ہے کہ امریکہ نے اس دن عراق کے اس حصے میں فضائی حملے کیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کے اس 'غیر ارادی واقعے میں ملوث ہونے کے بہت امکانات ہیں۔'

اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم نے ہی اس عمارت کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہو۔

موصل کے مغربی ضلعے جدیدہ میں مبینہ طور پر دولت اسلامیہ کے نشانہ بازوں اور ان کے اسلحے کو تباہ کرنے کے لیے ایک عمارت کو فضائی حملے کے تحت نشانہ بنایا گيا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اس عمارت میں کم از کم 140 افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر زبردستی رکھا ہوا تھا اور اس عمارت کو ایک قسم کا پھندا یا چارہ بنا دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption موصل پر دوبارہ قبضے کے لیے جنگ پانچ ماہ قبل شروع ہوئي تھی جو اب تک جاری ہے

بغداد کا دورہ کرنے والے امریکی فوج کے سربراہ کے بیان میں جنرل ٹاؤن سینڈ کے بیان کی گونج تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے کی 'جانچ کے بعد ہی کوئی بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے۔'

جنرل مارک ملی نے کہا: 'بہت حد تک اس بات کا بھی امکان ہے کہ داعش نے اتحادیوں پر الزام لگانے کے لیے اس عمارت کو دھماکے سے اڑا دیا ہے تاکہ موصل میں جاری پیش رفت اور اتحادی افواج کے حملوں میں تاخیر لائی جا سکے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'یہ بھی ممکن ہے کہ اتحادی افواج کے فضائی حملے میں یہ ہوا ہو۔'

دوسری جانب عراقی فوج نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ جانی نقصان اتحادی افواج کے فضائی حملے میں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ انھیں حملے کے شواہد بالکل نہیں ملے ہیں بلکہ انھیں وہاں ایک گاڑی ملی ہے جو بچھائے گئے جال میں پھنس کر دھماکے سے اڑ گئی تھی۔

ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں انھوں نے اتحادی افواج پر عام شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے مناسب احتیاط برتنے میں ناکامی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اس نے کہا ہے کہ ان کے پاس موصل میں فضائی حملوں کے 'تشویشناک رجحان' کے شواہد ہیں جس میں پورے پورے گھروں کو وہاں آباد مکینوں کے ساتھ تباہ کر دیا گيا۔

Image caption موصل میں گھر مورچوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور بی بی سی نے یہ اسلحے گھروں میں پڑے دیکھے ہیں

تنظیم کے سربراہ زید رعد الحسین نے انھی وجوہات کے سبب اتحادی افواج کو اپنی حمکت عملی پر از سر نو غور کرنے کے لیے کہا ہے۔

الحسین نے کہا کہ فضائی حملوں کی زد میں آنے والی عمارتوں میں لاشیں ملی ہیں جہاں مبینہ طور پر دولت اسلامیہ نے انسانی ڈھال کے طور پر لوگوں کو قید کر رکھا تھا۔

انھوں نے اتحادی افواج سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے پھندوں سے بچیں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔

خیال رہے کہ شہر پر دوبارہ قبضے کے لیے جنگ پانچ ماہ قبل شروع ہوئی تھی لیکن ابھی تک موصل میں جنگی افرا تفری جاری ہے اور تقریباً تین لاکھ افراد حکومت کی اپیل کے باوجود اپنے گھر بار چھوڑ کر راہ فرار اختیار کی ہے۔

اقوام متحدہ کی تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق 17 فروری سے 22 مارچ کے درمیان وہاں 307 افراد ہلاک جبکہ 273 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں