انڈونیشیا میں لاپتہ شخص اژدھے کے پیٹ سے برآمد

اژدھا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اژدھا عام طور پر جنگلی سوروں اور کتوں کو شکار کرتے ہیں

انڈونشیا میں مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ سلوایسی جزیرے میں ایک لاپتہ شخص کی لاش کو ایک اژدھا کے جسم سے نکال لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق 25 سالہ اکبر اپنے پالم آئل فارم میں کام کرنے کی غرض سے گیا تھا لیکن جب وہ چوبیس گھنٹے تک واپس گھر لوٹ کر نہیں آیا تو پولیس کو مطلع کیا گیا۔

پولیس کے ترجمان ماشورا نے بی بی سی انڈونیشیا کو بتایا کہ مقامی لوگوں کی اطلاع پر پولیس نے لاپتہ اکبر کو علاقے میں ڈھونڈا تو انھیں اکبر تو نہ ملا لیکن ایک 23 فٹ لمبا اژدھا اس پالم آئل فارم کے نزدیک ملا اور انھیں شک ہوا کہ اژدھا اکبر کو نگل چکا ہے۔ پولیس نے جب اژدھے کو کاٹا تو اس کے جسم سے اکبر کی لاش ملی۔

اژدھا دنیا کا سب سے بڑا رینگنے والا جانور تصور کیا جاتا ہے اور وہ اپنے شکار کو نگلنے سے پہلے اسے بھینچ کر ہلاک کرتا ہے۔

اژدھا شاذ و نادر ہی انسانوں کو اپنا شکار بناتا ہے لیکن ایسی اطلاعات ہیں کہ وہ کم عمر بچوں اور جانوروں کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتا۔

براوجایا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے کورنیا وان نے بی بی سی انڈونیشیا کو بتایا کہ اس حجم کا اژدھا عام طور پر جنگلی سور اور کتوں جیسے جانوروں کو شکار کرتا ہے۔

بڑے اژدھا عام طور پر انسانی بستیوں کے قریب جانے سے گریز کرتے ہیں لیکن وہ پالم آئل کے کھیتوں کا رخ کرتے ہیں جہاں انھیں اپنے مرغوب شکار، سور اور کتے ملنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

اسی بارے میں