ناروے اسلامک کونسل کی نقاب پوش ترجمان پر تنازع

نقاب تصویر کے کاپی رائٹ PA

ناروے کی اسلامک کونسل کی جانب سے ایک نقاب پوش خاتون لیلا حازق کو ترجمان مقرر کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ناروے کی پارلیمنٹ پہلے ہی سکولوں میں نقاب پہننے پر پابندی کا قانون منظور کر چکی ہے۔

٭ ’یورپی کمپنیاں دفاتر میں حجاب پر پابندی لگا سکتی ہیں‘

’ناروے کی وزیر ثفاقت لنڈا ہیلے لینڈ، ناروے پارلیمنٹ کے مسلمان ممبر راجہ عابد اور دوسری مسلمان تنظیموں نے ناروے کی اسلامک کونسل کی جانب سے نقاب پوش خاتون کو اپنا ترجمان مقرر کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

ناروے کی اسلامک کونسل کی جانب سے یہ فیصلہ ناروے معاشرے میں بین العقیدہ مکالمے کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی جانب سے اسلامک کونسل کو 44 ہزار پونڈ کی امداد ملنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ناروے کےسکولوں میں نقاب پر پابندی کا قانون جسے تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، گذشتہ برس کے اختتام میں نافذ العمل ہوا۔

ناروے کے علاوہ کئی یورپی ممالک بھی عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔

اسلامک کونسل آف ناروے جو مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے مابین اتحاد بڑھانے کا داعی ہے، نے 32 سالہ لیلا حازق کو اپنا ترجمان مقرر کیا ہے۔

اسلامک کونسل آف ناروے کے سیکرٹری جنرل مہتاب افسر نے نارویجین ٹی وی کو بتایا کہ لیلا حازق کو اس لیے چنا گیا ہے کہ وہ سب سے موزوں امیدوار تھیں۔

مہتاب افسر نے کہا کہ ان کے لیے یہ باعث حیرت ہے کہ ایسے لوگ جو اظہار رائے کے حامی ہیں وہ ایک نقاب پہنے عورت کے کاروبارِ زندگی میں شریک ہونے پر اس طرح کی تنقید کر رہے ہیں۔

لیکن وزیر ثقافت لنڈا ہیلی لینڈ نے اپنے فیس بک پیغام میں کہا کہ یہ قدم معاشرے کے طبقوں میں دوری اور غلط فہمیاں پیدا کرے گی۔

مسلمان ممبر پارلیمنٹ عابد راجہ نے سرکاری نشریاتی ادارے این آر کے کو بتایا کہ لیلا حازق کی تعیناتی ایک 'غیر دانشمندانہ' فیصلہ ہے اور اس سے ناروے کے معاشرے کا مسلمانوں پر اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی۔

منگل کے روز کئی مسلمان تنظیموں نے ایک مشترکہ پریس ریلیز میں اسلامک کونسل آف ناروے کے اس فیصلہ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی اطلاعات کے مطابق ناروے کی کئی مساجد نے دھمکی دی ہے کہ وہ اسلامک کونسل آف ناروے سے اپنے روابط ختم کر دیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں