شام کے چار محصور علاقوں سے شہریوں کے انخلا کا معاہدہ طے پا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہاں عام شہری خوراک اور دواؤں کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں

شام کے چار علاقوں میں محصور لوگوں کو نکالنے کے لیے حکومت اور باغیوں میں ایک معاہدے طے پا گیا ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزریٹری کا کہنا ہے کہ حکومتی محاصرے میں شمالی مغربی دو دیہات فوع اور كیفرايا سے لوگوں کو نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔

’حلب کے محصور علاقوں میں زندگی جہنم ہے‘

تقریباً 10 لاکھ شامی محاصرے میں ہیں: اقوامِ متحدہ

حلب سے نکلنے والے افراد کا مستقبل؟

شہریوں کا یہ انخلا باغیوں کے زیرِ قبضہ دمشق کے مضافاتی علاقوں مضايا اور زبدانی کے لوگوں کے لیے محفوظ راستے کے بدلے میں کیا جائے گا۔

ایک اندازے کے مطابق شام کے ان محصور علاقوں میں اب بھی کم سے کم 60 ہزار افراد موجود ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ یہ معاہدہ قطر اور ایران نے کروایا ہے۔

محصور علاقوں سے لوگوں کا انخلا منگل سے شروع ہو گا لیکن مقامی سطح پر جنگ بندی عمل میں آ چکی ہے۔ اس معاہدے کے تحت لوگوں کو انخلا کے لیے ایک ہفتے تک راستہ فراہم کیا جائے گا۔

جنوری میں بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس نے خبردار کیا تھا کہ شام کے محصور علاقوں میں صورتحال انتہائی درد ناک ہوتی جا رہی ہے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہاں عام شہری خوراک اور دواؤں کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں۔