متحدہ عرب امارات: ٹوئٹر پر ’ریاست کی ساکھ کو نقصان‘ پہنچانے پر دس سال قید کی سزا

سوشل تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ناصر بن غیث نے آخری بار اگست 2015 میں ٹویٹس کیے تھے جن میں عرب دنیا کی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں عدالت نے ایک نامور معلم کو ٹوئٹر پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنانے پر دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

بیروت میں قائم ایمنیسٹی انٹرنیشل کے علاقائی دفتر کا کہنا ہے کہ ناصر بن غیث کو ’ریاست اور اس کے ایک ادارے کی ساکھ اور وقار کو نقصان پہنچانے کے غرض سے غلط معلومات‘ ٹوئٹر پر سلسلہ وار ٹویٹس کے ذریعے پھیلانے کے جرم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایک گذشتہ مقدمے میں ان کو انصاف نہیں مہیا کیا گیا تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ناصر بن غیث کو سزا کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک اور انسانی حقوق کے کارکن احمد منصور کو دو ہفتے سے بھی کم وقت پہلے گرفتار کیا گیا ہے۔

احمد منصور کا شمار متحدہ عرب امارات کے ان پانچ کارکنوں میں ہوتا ہے جنھیں اپریل 2011 میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم ایک سال بعد صدارتی معافی کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

ان پانچوں پر آن لائن اماراتی رہنماؤں کو رسوا کرنے، حکومت مخالف اشتعال انگیزی اور وفاقی قومی کونسل کے انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرنے الزامات ہیں۔

ناصر بن غیث کو اگست 2015 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا جس کے بارے میں ایمنیسٹی انٹرنیشل کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ان کے وہ ٹویٹس تھے جس میں انھوں نے سنہ 2011 میں گرفتاری کے بعد مقدمے کی منصفانہ سماعت کا حق نہ ملنے کا ذکر کیا تھا۔

ناصر بن غیث نے آخری بار اگست 2015 میں ٹویٹس کیے تھے جن میں عرب دنیا کی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

دوسری جانب احمد منصور کو متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قانون کے تحت رواں ماہ دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا اور ان کا ضبط کر لیا گیا ہے جبکہ صدارتی معافی کے باوجود ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

اسی بارے میں