ترکی نے شام میں اپنے فوجی آپریشن کا اختتام کردیا

شام تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترک وزیراعظم نے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا اب ترک فوجیں شام سے واپس آجائیں گی یا نہیں

ترکی کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی شام میں سات ماہ پر محیط فرات شیلڈ نامی فوجی آپریشن ’کامیابی‘ کے ساتھ ختم کر دیا ہے۔

وزیر اعظم بن علی یلدرم نے یہ اعلان ترکی کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا ہے۔

دولت اسلامیہ کو اسلحہ کہاں سے ملتا ہے؟

موصل کی جنگ اور ترکی کے عزائم

تاہم انھوں نے نئے فوجی آپریشنز سے انکار نہیں کیا اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ کیا اب ترک فوجیں شام سے واپس آجائیں گی یا نہیں۔

خیال رہے کہ ترکی نے اگست میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو اپنی سرحدوں سے دور دھکیلنے اور مقامی کرد جنگجوؤں کی پیش قدمی روکنے کے لیے اس فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

بدھ کو وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ ’آپریشن فرات شیلڈ کامیاب ہوچکا ہے اور ختم ہو گیا ہے۔ اس کے بعد ہونے والا کسی اور آپریشن کا مختلف نام ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترک فوج اور ترک نواز شامی باغیوں نے کئی شہروں پر قبضہ کیا ہے جن میں جرابلس اور الباب بھی شامل ہیں

گذشتہ سال 24 اگست کو ترک ٹینک اور جنگی طیاروں نے سرحد پار کی تھی جس کے بارے میں انقرہ کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو 100 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی سرحد سے دور دھکیلنا ہے۔

ترک فوج اور ترک نواز شامی باغیوں نے کئی شہروں پر قبضہ کیا ہے جن میں جرابلس اور جنوب کی جانب اہم قصبہ الباب بھی شامل ہیں۔

ترک آپریشن کا ایک مقصد کردش ملیشیا وائی پی جی کو مغرب کی جانب دریائے فرات پار کرنے سے بھی روکنا اور کرد اکثریتی علاقوں تک ان کی رسائی کو محدود کرنا تھا۔

واضح رہے کہ انقرہ کو خدشہ ہے کہ شامی کرد عراق کے خودمختار کرد علاقے کی طرح علاقوں پر اپنا قبضہ قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔

ترکی وائی پی جی کو شامی کرد گروپ پی کے کے کا حصہ سمجھتا ہے جو کئی دہائیوں سے ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں شورش کا باعث ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں