امریکہ میں سفری پابندی کی معطلی میں غیر معینہ مدت تک توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نئے حکم نامے کے مطابق پناہ گزینوں پر 120 دن کی پابندی لاگو ہونا تھی جبکہ اس حکم نامے کا اطلاق 16 مارچ سے ہوا تھا۔

امریکی ریاست ہوائی میں ایک وفاقی جج نے صدر ٹرمپ کی نئی سفری پابندی کی معطلی کو غیر معینہ مدت تک توسیع دے دی ہے۔

جج ڈیرک واٹسن کے فیصلے کے مطلب ہے کہ صدر ٹرمپ اب یہ پابندی اس وقت تک لاگو نہیں کر سکیں گے جب تک اس کے خلاف عدالت میں کیس جاری ہے۔

اس کے تحت چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر 90 دن کے لیے امریکہ کے نئے ویزے کے حصول پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

سفری پابندی کے صدارتی حکم کی معطلی کا فیصلہ برقرار

سفری پابندی کا حکم معطل،’فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے‘

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا نیا حکم نامہ ملک میں دہشتگردوں کو آنے سے روکے گا جبکہ ریاست ہوائی نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ اس ملک میں سیاحت اور بین الاقوامی طلبہ کی آمد دونوں کا نقصان پہنچے گا۔

یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لگائی گئی پہلی سفری پابندی کو بھی امریکی عدلیہ نے روک دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ @PressSec
Image caption صدر ٹرمپ کی صدارتی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ تصویر

پہلے جاری کیے گئے حکم نامے میں عراق کا بھی نام پابندی لگائے گئے ملکوں کی فہرست میں شامل تھا لیکن نئے حکم نامے میں اس کا نام خارج کر دیا گیا ہے۔

نئے حکم نامے کے مطابق پناہ گزینوں پر 120 دن کی پابندی لاگو ہونا تھی جبکہ اس حکم نامے کا اطلاق 16 مارچ سے ہوا تھا۔

خیال رہے کہ جنوری میں سفری پابندیوں سے متعلق جاری کیے گئے ایک حکم نامے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے اور امریکہ کے ہوائی اڈوں پر شدید افرا تفری کا عالم تھا تاہم اس حکم نامے کو فیڈرل کورٹ نے فروری میں معطل قرار دے دیا تھا۔

واضح رہے کہ فروری کے اوائل میں امریکہ میں اپیل کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کی امریکہ آمد پر پابندی کے صدارتی حکم کی معطلی کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز کا کہنا تھا کہ وہ لوئرکورٹ کی جانب سے کیے گئے صدارتی حکم نامے کی معطلی کے فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے صدارتی حکم نامے کا عندیہ دیا تھا۔

اسی بارے میں