روس نے امریکی انتخاب ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تھی: امریکی سینیٹر

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سینیٹرز نے خبردار کیا کہ فرانس اور جرمنی میں آئندہ انتخابات روس کا ہدف ہوسکتے ہیں۔

امریکی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت کے تحقیقات کرنے ڈیموکریٹک سینیٹر کا کہنا ہے کہ روس نے امریکی انتخاب کو بھرپور 'پراپیگنڈے' کے ذریعے ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تھی۔

سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے سماعت کے آغاز پر رپبلکن چیئرمین نے بھی خبردار کیا کہ ’ہم سب پرکشش اور باصلاحیت مخالفت کا ہدف ہیں۔‘

اب روس امریکہ مخالف پروپیگنڈا ختم کر دے گا؟

روس میں ٹرمپ کی کامیابی پر جشن کیوں؟

امریکی انتخاب میں روسی مداخلت: تفصیلی رپورٹ جاری

امریکی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ روس نے نومبر میں منعقدہ صدارتی انتخاب میں ہلیری کلنٹن کو نقصان پہنچاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح میں مدد کی کوشش کی تھی۔

تاہم روسی صدر ولادی میر پوتن نے ایک بار پھر ان الزامات کی تردید کی ہے۔

کمیٹی کے ابتدائی ریمارکس میں ڈہموکریٹ مارک وارنر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے سے ’روس نے ہمارے جمہوری عمل کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔‘

انھوں نے اسے ’امریکہ میں قومی بیانے کو زہرآلود کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا۔۔۔ روسی طاقت پراپیگنڈے‘ کے طور پر بیان کیا۔

مارک وانر کا کہنا تھا کہ جمعرات کے اجلاس میں اس بات کا معائنہ کیا جاسکتا ہے کہ روس نے امریکہ میں غلط معلومات پھیلانے کے لیے ٹیکنالوجی کا کس طرح استعمال ہوسکتا ہے، جس میں اہم ریاستوں جیسا کہ ونسکونس، مشی گن اور پینسلوینیا میں ووٹرز کے لیے جھوٹی خبروں کی ممکنہ پیداوار شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ روس نے صدارتی انتخاب میں ہلیری کلنٹن کو نقصان پہنچاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح میں مدد کی کوشش کی تھی

مارک وانر کا کہنا تھا کہ وکی لیکس جیسی ویب سائٹس پر قابل شرم 'چوری شدہ معلومات' جاری کی گئیں تا کہ ایک امیدوار (ہلیری کلنٹن) کو 'زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے۔'

سینیٹر مارکو روبیو نے پینل کے ممبران کو بتایا کہ ان کی سابقہ صدارتی مہم کے ارکان کو بدھ کے روز بھی نامعلوم روسی ویب ایڈریسز کے ذریعے نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی گئی۔

خیال رہے کہ مارکو روبیو کی انتخابی مہم کے عملے کو اس سے قبل جولائی 2016 میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

سینیٹرز کے خیال میں گذشتہ سال برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے لیے ہونے والے ریفرینڈم میں بھی روسی مداخلت ہوسکتی ہے اور انھوں نے خبردار کیا کہ فرانس اور جرمنی میں آئندہ انتخابات روس کا ہدف ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں