'بشار الاسد کو ہٹانا اب اولین ترجیح نہیں رہی'

شام تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنا اب امریکی حکومت کی اولین ترجیح نہیں ہے۔

نکی ہیلی نے جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پچھلی امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کے برعکس اب ہم بشار الاسد پر توجہ نہیں دے سکتے۔ ہمارے لیے یہ اہم نہیں ہے کہ ہم اس بات پر توجہ دیں کہ کس طرح اسد کو ہٹائیں بلکہ اب ہمارے لیے یہ زیادہ ضروری ہے کہ کس طرح، کس گروہ کے ساتھ کام کیا جائے جس سے شام کے عوام کی مشکلات آسان ہوں۔‘

بشار الاسد کو امید کہ ٹرمپ اتحادی بن سکتے ہیں

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں امریکہ نے کہا تھا کہ بشار الاسد کو ہٹانا ضروری ہے اور اس کے لیے انھوں نے بشار الاسد سے جنگ کرنے والے باغیوں کا ساتھ بھی دیا تھا۔

بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ نے کہا کہ نکی ہیلی نے برملا جس بات کا اعتراف کیا ہے وہ امریکی حکومت کی کچھ عرصے سے پالیسی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن

ادھر امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے جمعرات کو اپنے دورہ ترکی کے دوران کہا کہ بشار الاسد کے مستقبل کا فیصلہ ’شام کی عوام کرے گی۔‘

شام میں حزب اختلاف کی ایک نمائندہ فرح الاتاسی نے نکی ہیلی کے بیان پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکہ متضاد پیغامات دے رہا ہے۔

’ہم نے وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا بیان سنا جو کہ ریکس ٹیلرسن کے اُس بیان کے بالکل برخلاف تھا جو انھوں نے ترکی میں آج دیا۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ بشار الاسد کا عبوری دور میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں