امریکی صدر ٹرمپ کے سابق مشیر استثنیٰ کے عوض گواہی دینے کے لیے راضی

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی مائیکل فلن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی مائیکل فلن کے وکیل نے کہا ہے کہ ان کے موکل نے استثنیٰ کے عوض روس کی امریکی انتخابات میں دخل اندازی کے الزامات کے بارے میں گواہی دینے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔

مائیکل فلن کے وکیل رابرٹ کیلنر نے کہا کہ 'میرے موکل کے پاس ایک کہانی سنانے کو ہے، جو کہ وہ سنانے کے لیے تیار بھی ہیں اگر حالات موافق رہے‘ لیکن ان کو اپنے تحفظ کی ضمانت درکار ہے۔

فلن کے روسی روابط، رپبلکنز بھی تحقیقات کے حامی

’ٹرمپ کو جنرل فلن کے معاملے کا کئی ہفتوں سے پتا تھا‘

یاد رہے کہ اپنی تقرری کے تقریباً ایک مہینے بعد ہی فروری میں مائیکل فلن کو روسی سفیر سے گفتگو کے بارے میں وائٹ ہاؤس کو گمراہ کرنے کے الزام میں نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا۔

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور سینیٹ کی انٹیلیجینس کمیٹی ان کے روس سے تعلقات کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔

گذشتہ سال ستمبر میں ایک انٹرویو کے دوران مائیک فلن نے کہا تھا کہ یہ قطعی ناقابل قبول ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار کو سزا سے استثنی ملے۔ ’جب آپ کو استثنی ملتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے کوئی جرم ضرور کیا ہے۔‘

رابرٹ کیلنر نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ میڈیا میں بے بنیاد الزامات اور غداری کے دعویٰ کی خبریں بھری ہوئی ہیں۔

’کوئی ذی ہوش شخص، جس کو ایک وکیل کی خدمات بھی حاصل ہوں، ایسے سیاسی ماحول میں سوالات کے جواب نہیں دے گا جب تک کہ اس کو انصاف کی ضمانت نہ دی جائے۔‘

رابرٹ کیلنر نے اخبار وال سٹریٹ جرنل کی اس خبر کی وضاحت نہیں کی جس میں کہا گیا تھا کہ مائیک فلن نے سزا کے خلاف استثنیٰ مانگی ہے۔

سینیٹ کی انٹیلیجینس کمیٹی نے جمعرات کو روسی مداخلت کے بارے میں سماعت شروع کر دی جس میں ایک ممبر نے کہا کہ روس نے امریکی انتخابات کو ’ہائی جیک‘ کرنے کی کوشش کی تھی۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں شامل مختلف افراد پر الزامات ہیں کہ انھوں نے روس کے ساتھ انتخابات کے دوران گٹھ جوڑ کی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان کو ’جعلی خبریں‘ قرار دیتے رہے ہیں۔ روسی صدر پوتن نے بھی ان الزامات کی نفی کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں