کولمبیا: لینڈ سلائیڈ ميں ڈھائی سو سے زیادہ ہلاک، سینکڑوں لا پتہ

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES / COLOMBIAN ARMY
Image caption تقریبا 1100 سو فوجی اور پولیس اہلکار امدادی کاررائیوں میں مصروف ہیں

کولمبیا میں سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ ان سینکڑوں افراد کی تلاش میں سرگرداں ہیں جو لینڈ سلائیڈ کے بعد سے لاپتہ ہیں، اس واقعے میں اب تک 254 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق زمین کے تودے کھسکنے کی وجہ سے اب تک کم از کم 254 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تقریبا 1100 فوجی اور پولیس اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

ملک کے جنوب مغربی علاقے موکوا میں زبردست بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی صورت حال پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے کیچڑ اور بڑی تعداد میں چٹانوں کے کھسکنے سے آس پاس کے علاقے اس کی زد میں آگئے ہیں۔

فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس میں تقریبا 400 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 200 کے قریب اب بھی لا پتہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زبردست بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی صورت حال ہے جس کی وجہ سے کیچڑ اور بڑی تعداد میں چٹّانوں کے کھسکنے سے آس پاس کے علاقے اس کی زد میں آگئے

رات بھر جاری رہنے والی شدید بارش کی وجہ سے دریاؤں کے حفاظتی بند ٹوٹ گئے اور صوبے پوٹومایو میں مکانات زیر آب آگئے۔

حکام نے علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ صدر یوان مینیول سانتوز نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے پیش نظر فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

اس سے قبل نیشنل فائر سروسز نے کہا تھا کہ کم از کم 190 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

شہر کی ویڈیو فوٹیج میں بہت سے رہائیشیوں کو اپنے گم شدہ بچوں کی لسٹ لیے ہوئے ددیکھا گيا ہے۔

ایک شخص نے وہاں پر موجود صحافیوں کو بتایا: 'ہمارا ایک بچہ جو کھو گیا تھا، نہیں مل رہا ہے، باقی تو آپ دیکھ ہی رہے کہ حالات کیا ہیں۔ ہمارا چھوٹا بچہ نہیں مہ رہا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES / COLOMBIAN ARMY

علاقے کے گورنر سوریل آریکو نے کولمبین میڈیا کو بتایا ہے کہ آس پاس کے علاقے تباہ ہو چکے ہیں۔

صوبائی دارالحکومت موکوا کے میئر جاز اینتونیو کاسترو نے کاراکول ریڈیو کو بتایا کہ ’علاقہ بجلی اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر تنہا رہ گیا ہے۔‘

متاثرہ علاقے پہنچنے پر صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا اور تمام کولمبین عوام کے دل متاثرہ لوگوں کے ساتھ ہیں۔‘

ریسکیو سروسز کے مطابق آس پاس کے 17 علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں جبکہ مسٹر کاسترو کا کہنا ہے کہ ان کا اپنا مکان بھی تباہ ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں