فیس بک پر لائیو ’جنسی حملہ‘ دکھانے پر 14 سالہ لڑکا گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رپورٹس کے مطابق فیس بک پر اس مبینہ جنسی استحصال کی ویڈیو چالیس لوگوں نے دیکھی لیکن کسی نے بھی پولیس کو اس واقعے سے آگاہ نہیں کیا۔

شکاگو میں پولیس نے 15 سالہ لڑکی پر جنسی حملہ کرنے اور اس واقعے کو فیس بک پر لائیو نشر کرنے کے الزامات کے تحت چودہ سالہ لڑکے کو گرفتار کیا ہے۔

جنسی حملے کے علاوہ 'چائلڈ پورنوگرافی' یا بچوں کی فحش ویڈیوز بنانے اور انہیں عام کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے اس لڑکے کا نام کم عمر ہونے کی وجہ سے ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ پانچ سے چھ افراد نے مبینہ طور پر اس لڑکی پر جنسی حملہ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق فیس بک پر اس مبینہ جنسی حملے کی ویڈیو چالیس لوگوں نے دیکھی لیکن کسی نے بھی پولیس کو اس واقعے سے آگاہ نہیں کیا۔

لیکن ایک نوجوان نے اس لڑکی کے ایک رشتہ دار کو واقعے کی اطلاع دی۔

اس رشتے دار کا کہنا تھا کہ ’بالغ افراد نے یہ ہوتے دیکھا لیکن کسی نے اس واقعے کو رپورٹ کرنے کی زحمت نہیں کی۔‘

خوفناک جرم

یہ لڑکی 19 مارچ کو اپنی فیملی کے ساتھ چرچ گئی جس کے بعد اسے اس کے گھر کے پاس اتارا گیا تھا لیکو وہ اس کے بعد لاپتہ ہوگئی۔ اسے 21 مارچ کو مبینہ جنسی حملے کے بعد تلاش کر لیا گیا تھا۔

اس کے خاندان کو دھمکیاں ملنے کے بعد انہیں کسی دوسری جگہ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس اس سلسلے میں مزید گرفتاریاں کرنے کی توقع کر رہی ہے۔

فیس بک کی ترجمان کے بقول 'اس طرح کے جرائم خوفناک ہیں اور ہم فیس بک پر ایسے مواد کی اجازت نہیں دے سکتے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم فیس بک پر لوگوں کو محفوظ رکھنے کے ذمہ دار ہیں اور وہ تمام ویڈیوز ہٹائیں گے جن میں جنسی تشدد دکھایا گیا ہو اور جو ویڈیوز تشدد کو پھیلانے کے لیے شیئر کی جا رہی ہوں۔‘

گذشتہ جنوری میں بھی ایک الگ واقعے میں شکاگو پولیس نے ایک شخص پر تشدد کی ویڈیو کو فیس بک پر لائیو نشر کیے جانے پر چار افراد کو گرفتار کیا تھا۔