چین کے بغیر ہی شمالی کوریا کے مسئلے سے نمٹ لیں گے: ٹرمپ

ٹرمپ اور شی جن پنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ چین صدر شی جن پنگ سے جمعرات کو ملاقات کرنے والے ہیں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ چین کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اسلحے کے خطرے کو حل کر لے گا۔

انھوں نے برطانیہ کے اخبار فائنینشیئل ٹائمز (ایف ٹی) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: 'اگر چین شمالی کوریا کا مسئلہ حل نہیں کرتا تو ہم کریں گے۔ ہم آپ سے کہہ رہے ہیں کہ ہم ایسا ہی کریں گے۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تنہا وہ اس کام کو انجام دینے میں کامیاب ہوں گے تو انھوں نے کہا 'مکمل طور پر'۔

٭ 'اب ایسا نہیں ہوگا‘، ڈونلڈ ٹرمپ کا شمالی کوریا کو پیغام

٭ چین شمالی کوریا سے ناراض، کوئلے کی درآمد معطل

٭ شمالی کوریا کے حملے کا ’زبردست‘ جواب دیا جائے گا: امریکہ

خیال رہے کہ مسٹر ٹرمپ کا یہ انٹرویو چینی صدر شی جن پنگ کے رواں ہفتے ہونے والے امریکی دورے سے قبل آيا ہے۔

مسٹر ٹرمپ نے ایف ٹی کو بتایا: 'چین کا شمالی کوریا پر بہت اثر و رسوخ ہے۔ اور چین کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ شمالی کوریا سے ٹمٹنے میں ہماری مدد کرے گا یا نہیں۔ اگر وہ مدد کرتا ہے تو یہ چین کے لیے بہت اچھا ہوگا اور اگر وہ نہیں کرتا ہے تو یہ کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ہوگا۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب 'ون آن ون' یکطرفہ ایکشن ہوگا تو مسٹر ٹرمپ نے کہا: 'کلی طور پر، اور اب مجھے مزید کچھ نہیں کہنا۔'

انھوں نے اپنے ایکشن کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں۔ مسٹر ٹرمپ کے یہ بیانات جمعرات کو چینی صدر سے ان کی مجوزہ ملاقات سے قبل آئے ہیں جو کہ شمالی کوریا کے جوہری اسلحے کے فروغ کے متعلق ان کی تازہ ترین وارننگ ہے۔

دونوں ممالک کے صدور کی یہ ملاقات پہلے سے طے شدہ ہے اور یہ 'مار اے لیگو' میں ہوگی۔

شمالی کوریا کے بارے میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ بالآخر طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل کا فروغ کر لے گا جو کہ امریکہ کو نشانہ بنا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@REALDONALDTRUMP
Image caption امریکی صدر شمالی کوریا کے میزائل پروگرام پر سخت موقف رکھتے ہیں

مارچ میں ایشا کے دورے میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ دشمن کو ناکام کرنے کے لیے پیش بندی طور پر کی جانے والی 'فوجی کارروائی زیر غور ہے۔'

ایک ماہ قبل امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے متنبہ کیا تھا کہ کسی بھی جوہری اسلحے کے استعمال کا 'بھرپور جواب' دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ چین شمالی کوریا کا واحد بین الاقوامی اتحادی ہے اور اس نے بھی تنہا پڑجانے والے اس ملک کی جانب سے تازہ ترین میزائل کے تجربے کے بعد ایکشن لیتے ہوئے فروری میں وہاں سے کوئلے کی درآمد بند کر دی جس سے پیونگ یانگ کو حاصل ہونے والی نقدی کے اہم ذریعہ پر ضرب پڑی ہے۔ یہ پابندی رواں سال کے اختتام تک کے لیے لگائی گئی ہے۔

تاہم یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ چینی صدر سے ملاقات کے دوران شمالی کوریا کے خلاف مزید کارروائی کے لیے ان پر دباؤ ڈالیں گے۔ اور انھوں نے یہ عندیہ دیا ہے کہ اس کے لیے تجارت کا میکانکی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے ایف ٹی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'تجارت وہ محرک اور یہ سب تجارت ہی ہے۔'

تاہم انھوں نے کہا کہ وہ ملاقات کے دوران محصول میں کمی کو زیر بحث نہیں لائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوبی کوریا نے چھ مارچ کو شمالی کوریا کے میزائل لانچ کو ٹی پر نشر کیا تھا

خیال رہے کہ مارچ کے اخیر میں انھوں نے امریکی تجارت کے خسارے کو کم کرنے، جاری قوانین اور بیرون سے ہونے والی تجارت کی خامیوں کا جائزہ لینے کے لیے دو ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے۔

ہرچند کہ وائٹ ہاؤس نے زور دے کر یہ بات کہی ہے کہ ان ایگزیکٹو آرڈرز کے مرکز میں چینی تجارت نہیں ہے تاہم امریکی تجارت میں خسارے کا سب سے بڑا ذریعہ چین ہی ہے جو کہ امریکہ کے مجموعی 502 ارب ڈالر سالانہ خسارے میں سے 374 ارب ڈالر کا موجب ہے۔

مسٹر ٹرمپ نے خود ہی ٹویٹ کیا کہ 'چین کے ساتھ ہونے والی ملاقات بہت مشکل ہوگی کیونکہ ہم اب زیادہ تجارتی خسارہ نہیں اٹھائیں گے۔'

بہر حال مسٹر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس طرح تجارت پر تول مول کرتے ہوئے چین پر یہ دباؤ ڈالیں گے کہ وہ پیونگ یانگ کو متاثر کرے۔

اسی بارے میں