شام میں کمیونٹی کی مدد کے لیے غیر مسلح پولیس

تصویر کے کاپی رائٹ FSP
Image caption پہلے جنرل الشلاف کا خیال تھا کہ ان کے افسران کو ہتھیار لے کر پھرنا چاہیے مگر ان کا پختہ یقین ہے کہ شام میں امن و امان بندوق کی نوک پر نہیں لایا جانا چاہیے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے جزوی مالی امداد پر چلنے والی فری سریئن پولیس فورس کو پانچ سال پہلے قائم کیا گیا تھا۔ اس فورس کا ہدف شامی لوگوں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ ملک میں قانون نافذ کرنے کے لیے مسلح ہونا لازم نہیں ہے۔

شام اور ترکی کی سرحد سے تقریباً ایک گھنٹہ دور ایک محفوظ عمارت میں چائے کے ایک کپ پر میں حلب صوبے میں فری سریئن پولیس فورس کے بانی اور سربراہ جنرل ادیب الشلاف سے ملا۔

جنرل ادیب الشلاف ایک قد آور شخص ہیں اور اب کا بہت رعب و دبدبا ہے۔

ایک زمانے میں وہ شامی حکومت کی پولیس فورس میں اعلیٰ عہدیدار تھے مگر جب ان کے حکام انھیں مظاہرین پر گولیاں چلانے کا حکم دیا تو انھوں نے فورس چھوڑ دی۔

وہ کہتے ہیں ’ظاہر ہے میں نے یہ حکم ماننے سے انکار کردیا۔ اسی لیے میں نے بغاوت کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FSP
Image caption فری سریئن پولیس میں اب 3300 اہلکار ہیں جن میں سے زیادہ تر غیر مسلح ہوتے ہیں

2012 میں انھوں نے اپنے چند ساتھی افسروں کے ساتھ فری سریئن پولیس کی بنیاد رکھی۔

وہ چاہتے تھے کہ شامی عوام کے پاس ایک ایسی فورس ہو جس پر وہ اعتماد کر سکتے ہوں۔ کئی سالوں سے عوام میں پولیس کے بارے میں یہ رائے تھی کہ وہ حکومت کا ایک آلہ کار ہے۔

’ہماری طاقت ہی ہماری کمزوری ہے‘

فری سریئن پولیس میں اب 3300 اہلکار ہیں جن میں سے زیادہ تر غیر مسلح ہوتے ہیں اور وہ حلب، ادلیب اور درہ صوبوں میں باغیوں کے زیرِ انتظام علاقوں میں کمیونٹی پولیسنگ کی سروس فراہم کرتے ہیں۔

یہ کام مشکل اور خطرناک ہے۔ جنرل الشلاف نے مجھے بتایا کہ اکثر انھیں شیلنگ میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے 100 سے زیادہ افسر ہلاک ہوچکے ہیں اور ’انھوں نے 20 مرتبہ مجھے مارنے کی کوشش کی ہے۔‘

پہلے جنرل الشلاف کا خیال تھا کہ ان کے افسران کو ہتھیار لے کر پھرنا چاہیے مگر ان کا پختہ یقین ہے کہ شام میں امن و امان بندوق کی نوک پر نہیں لایا جانا چاہیے۔

’ہماری طاقت ہی ہماری کمزوری ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ان کے افسران کی اتھارٹی کمیونٹی کی حمایت سے آتی ہے۔ برطانیہ میں اسے اجازت کے ساتھ پولیسنگ کرنا کہا جا سکتا ہے۔

اس پراجکٹ کو کامیاب بنانے میں برطانوی حکومت بھی کوشاں ہے اور اس کا دفتر ایڈم سمتھ کی عمارت میں ہے۔ ان کا دفتر کچھ خاص نمایاں عمارت میں نہیں ہے۔ اس کا مقصد اسے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی نظروں سے اوجھل رکھنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FSP
Image caption مالی امداد کے علاوہ ڈیوڈ کی ٹیم ایک ایسی مہم کے لیے بھی کوشاں ہے کہ شامی لوگوں کو ذاتی دستاویزات جیسے کہ نکاح نامے اور پیدائش کے سرٹیفیکیٹ فراہم کیے جائیں۔

2014 سے اب تک برطانوی تنظیم ایڈم سمتھ انسٹیٹیوٹ نے مختلف مغربی حکومتوں کی مدد سے تین کروڑ پاؤنڈ سالانہ کی امداد دی ہے۔

اس میں سے تقریباً 30 فیصد برطانیہ دیتا ہے۔

اس پروگرام کے قائد ڈیوڈ رابنسن کہتے ہیں ’ہم نے گاڑیاں، یونفارم، بیٹن وغیرہ وغیرہ فراہم کیے ہیں۔‘

مالی امداد کے علاوہ ڈیوڈ کی ٹیم ایک ایسی مہم کے لیے بھی کوشاں ہے کہ شامی لوگوں کو ذاتی دستاویزات جیسے کہ نکاح نامے اور پیدائش کے سرٹیفیکیٹ فراہم کیے جائیں۔

اس مہم کے سربراہ وکیل کا کہنا ہے کہ شامی لوگوں کی شناخت کا تحفط انتہائی اہم ہے۔

جن کمیونٹی میں یہ اہلکار خدمات فراہم کر رہے ہیں، بظاہر وہ انھیں اہم سمجھتے ہیں۔

علاقے میں کمیونٹی کی ایک نمائندہ نے مجھے بتایا کہ ’ان کا کام بہادری سے زیادہ ہے۔ وہ جو کر رہے ہیں، لفظ بہادری تو اسے بیان بھی نہیں کرتا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لوگ ہتھیار دیکھ دیکھ کر تھک گئے ہیں، اسی لیے لوگ غیر مسلح پولیس دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

ان کے علاقے میں رات کو گشت کیا جاتا ہے اور ان علاقوں میں جرائم کم ہوگئے ہیں۔ تاہم شام کچھ مسلح گروہوں کو انصاف کے کٹھرے تک لانے کی اس پولیس فورس کی صلاحیت محدود ہے۔

شام میں ایڈم سمتھ انٹرنیشل کے ایک اہلکار نے مجھے بتایا کہ ’ایک مثال ایسی ہے کہ مغربی حلب میں پانی کے مسئلے پر کچھ قتل ہونے کی اطلاع ملی۔ مگر فری سریئن پولیس وہاں مداخلت اس لیے نہیں کر سکی کیونکہ اس میں ملوث زیادہ تر افراد مسلح تھے۔‘

ایک خاندان پانی کی رسد کا کنٹرول رکھتا تھا اور یہی جھگڑے کی وجہ تھی۔

Image caption 2014 سے اب تک برطانوی تنظیم ایڈم سمتھ انسٹیٹیوٹ نے مختلف مغربی حکومتوں کی مدد سے 30 ملین پاؤنڈ سالانہ کی امداد دی ہے۔

اس کی جگہ پولیس نے پانی کی رسد میں بہتری کے لیے مذاکرات کیے اور اسے باٹنے کے لیے معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں قتل رک گئے۔

مگر اس وقت اس ملک میں لڑائی سے چھٹکارا نہیں ہے۔ پولیس وائٹ ہیلمٹس نامی شہری دفاع کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے فضائی کارروائیوں کے بعد صورتحال کا سامنا کرتے ہیں اور طبی امداد فراہم کرتے ہیں۔

ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ’ہم آج بھی ساتھی اور دوست کھوتے ہیں۔ ہر روز کام کے آخر میں ہم ایک دوسرے کو خدا حافظ کہتے ہیں کیونکہ پتا نہیں ہم پھر ملیں گے یا نہیں۔‘

پھر بھی وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے ایک آپریشن کیا جس کا نشانہ منشیات فروش تھے۔ فری سریئن پولیس کی مالی امداد کرنے والے کوئی عدالتی نظام پیش نہیں کر رہے۔ پولیس زیادہ تر شامی قوانین ہی لاگو کرتے ہیں جبکہ کچھ مسلح گروہ نے مختلف قسم کی شریعت نافذ کر رکھی ہے۔

ایسی صورحال میں بین الاقوامی فنڈنگ کرنے والوں کی مجبوری ہے کہ وہ ایسے علاقوں میں پولیس کی مالی امداد نہیں کر سکتے۔

ڈیوڈ رابسن کا کہنا ہے کہ جب شام میں امن آئے گا تو امید ہے لوگوں کو کمینٹی پولیسنگ کی اہمیت یاد رہے گی۔

مگر وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ شام میں امن آئے گا کب۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں