سینٹ پیٹرز برگ دھماکہ ’ممکنہ طور پر خودکش حملہ‘

روس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

روسی تفتیشی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سینٹ پیٹرز برگ میں میٹرو سٹیشن پر ہونے والا حملہ ممکنہ طور پر اس شخص کی جانب سے خود کو اڑانے کے نتیجے میں ہو سکتا ہے جس کے جسم کے اعضا ٹرین میں سے ملے ہیں۔

روس کی سرکاری تفتیشی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ممکنہ طور پر ٹرین بم دھماکہ اس شخص کی جانب سے خود کو اڑانے کے نتیجے میں ہوا ہے جس کے اعضا ملے ہیں۔‘

خیال رہے کہ سینٹ پیٹرز برگ میں پیر کو ہونے والے دھماکے میں 50 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور روس میں اس واقعے پر تین دن کا قومی سوگ منایا جا رہا ہے۔

تاحال کسی گروہ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

اس سے قبل وسطی ایشیائی ملک کرغزستان کے سکیورٹی اداروں کا کہنا تھا کہ روس میں ایک زیرِ زمین ٹرین پر دھماکے میں 11 افراد کی ہلاکت کے لیے جس مشتبہ شخص کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے وہ کرغز نژاد روسی شہری ہے۔

دھماکے کے بعد روسی میڈیا میں کہا گیا تھا کہ زیرِ زمین ٹرین سٹیشن پر حملہ کرنے والے مشتبہ شخص کا تعلق وسطی ایشیا سے ہے۔

کرغز سکیورٹی سروسز کا کہنا ہے کہ مبینہ حملہ آور کا نام اکبرزون جلیلوف ہے جو سنہ 1995 میں اوش نامی شہر میں پیدا ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

کرغزستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی سکیورٹی سروس مزید تحقیقات کے لیے روسی خفیہ ادارے سے رابطے میں ہیں۔

دوسری جانب ایک دوسرے وسطی ایشیائی ملک قزاقستان نے دھماکے میں اپنے شہری کے ملوث ہونے کی بات کو مسترد کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی روسی صدر پوتن کو ٹیلی فون کر کے حملے کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں امریکی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی پیشکش کی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی ہے کہ دہشت گردی کو جلد اور فیصلہ کن طور پر شکست دینا ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

روس کی قومی انسدادِ دہشت گرد کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دھماکے کا نشانہ سنایا پلوشیڈ اور اس کا قریبی ٹیکنالوجسکی انسٹیٹیوٹ سٹیشن بنے۔

کمیٹی کا مزید کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد ایک اور دھماکہ خیز ڈیوائس بھی ملی تاہم ایک دوسرے قریبی سٹیشن کو محفوظ بنا لیا گیا۔

روس کے وزیرِ اعظم نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں دھماکے کو 'دہشت گرد' حملہ قرار دیا ہے۔

حکام نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے تاہم دیگر ممکنہ وجوہات کی بھی تحقیقات جا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر شائع کی جانے والی تصاویر میں سنایا سٹیشن پر ریل گاڑی کے تباہ شدہ دروازوں اور زخمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption زیرِ زمین میٹرو سٹیشنز کو بند کر دیا گیا ہے

روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور دہشت گردی سمیت تمام وجوہات مدِ نظر ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ ’میں پہلے ہی خصوصی فوجی دستوں کے سربراہ سے بات کر چکا ہوں۔ وہ اصل وجہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ٹیکنالوجسکی انسٹیٹیوٹ سٹیشن شہر میں میٹرو کی دو لائنز پر واقع ہے ہیں جن میں سے ایک سنہ 1955 اور دوسری 1961 سے سفری سہولت فراہم کر رہی ہے۔

سنایا پلوشیڈ میٹرو لائن ٹو پر واقع سٹیشن ہے جس کا افتتاح سنہ 1963 میں ہوا تھا۔

سنہ 2009 میں ماسکو سے سینٹ پیٹرز برگ جانے والی ریل گاڑی میں دھماکے کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بعدازاں اس دھماکے کی ذمہ داری ایک اسلامی تنظیم نے قبول کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption متاثرین میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں

اسی بارے میں