’دولتِ اسلامیہ بچوں کو انسانی ڈھال بنا رہی ہے‘

عراق
Image caption موصل شہر کا عراقی فوجی ہیلی کاپٹر سے ایک منظر

بی بی سی نے ایسے شواہد دیکھے ہیں جن کے مطابق دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ عراق کے شہر موصل کو کنٹرول کرنے کے لیے بچوں اور شہریوں کو انسانی ڈھال کےطور پر استعمال کر رہی ہے۔

بی بی سی فارسی کی نمائندہ نفیسہ کوہناورد اور پروڈیوسر جو ان ووڈ کو موصل میں عراقی فوج کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں پرواز کرنے کا موقع ملا جہاں انھوں نے دولت السامیہ کے خلاف موصل میں ہونے والی جنگ کو قریب سے دیکھا۔

اریج عسکری کیمپ موصل کے جنوب میں واقع ہے۔ وہاں پر موجود کچلے ہوئے اور تباہ شدہ گیس کے کنستر ان ہولناک وقتوں کی یاد دلاتے ہیں جب یہاں پر سخت جنگ جاری تھی۔

اس فوجی اڈے پر لڑاکا ہیلی کاپٹر ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور ان کو مختلف مشن پر جانے کے لیے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑتا۔

’موصل میں شہریوں کی ہلاکتیں ممکنہ جنگی جرائم‘

عراقی فوج نے مغربی موصل کو گھیرے میں لے لیا

خلافت، موصل اور مسجد النوری

عسکری کیمپ پر ہمارے پہنچتے ہی دو نوجوان اپنے ہیلی کاپٹر کی جانب بڑھے۔ زمینی عملہ فوراً حرکت میں آگیا اور وہ دونوں جوان اپنے ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر محو پرواز ہو گئے۔ ان کی منزل مغربی موصل تھا جہاں وہ دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ کے نئے محاذ سے نپٹنے جا رہے تھے۔

اس عسکری کیمپ میں ہم ایک ہفتہ رہے اور ان پائلٹس کے ساتھ وقت گزارا جو ان جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں مصروف تھے۔ جنگجوؤں نے موصل پر دو سال سے قبضہ کیا ہوا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں، جب ہم نے عراقی فوج کی ہیلی کاپٹرز میں دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ دیکھی ہو۔ اس سے پہلے ہم نے انھیں سنجر میں دیکھا جہاں وہ پناہ گزینوں کو پہاڑوں میں امداد پہنچانے جاتے تھے۔ ہم نے ان کو پچھلے سال فلوجہ کے پاس مشراق میں فیکٹری کے اوپر دیکھا جہاں خود کش بمباروں کی تربیت کی جاتی تھے۔

لیکن اس دفعہ ہمیں کچھ الگ محسوس ہوا۔

ہمارے اس شک کی تصدیق جنرل سمیر حسین نے کی جو اس مشن کے سربراہ ہیں۔ 'موصل ہمارا سب سے مشکل مشن ہے۔ ہمارا کوئی اور مشن اس کے جیسا نہیں تھا۔'

لیکن یہ حیران کن بات نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ایسا پہلی دفعہ ہو رہا تھا جب پائلٹس ایک ایسے شہر کے اوپر پرواز کر رہے تھے جہاں لاکھوں کی تعداد میں شہری پھنسے ہوئے تھے اور شہر عراقی فوجوں کے گھیرے میں تھا جس کے باعث جنگجوؤں کے پاس بھاگنے کا کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔

اس صورتحال میں ان جنگجوؤں نے شہریوں کو انسانی ڈھال کی صورت میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔

ایک دن ہماری ملاقت کرنل محمد سے ہوئی جو کہ عراقی فوج میں شہرت رکھتے ہیں اور ان کی وجہ شہرت ایک نہایت تجربہ کار پائلٹ کی حیثیت سے تھی۔ ہم نے انھیں آخری دفعہ فلوجہ میں پرواز کرتے دیکھا تھا۔

Image caption موصل عراق کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے

انھوں نے ہمیں حال ہی میں موصل میں ہونے والے ایک واقعے کے بارے میں بتایا جب دولت اسلامیہ کے گن مین نے ایک عورت کو ایسے استعمال کیا تاکہ پولیس اس کو بچانے کے لیے سامنے آئے اور ان کو نشانہ بنایا جا سکے۔ اس واقعےمیں کرنل محمد کو فضائی مدد کے لیے بلایا گیا تھا ۔

یہ صرف ایک مثال ہے کہ کس طرح دولت اسلامیہ کے جنگجو موصل کے شہریوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ لیکن ان کی مشکلات کی وجہ صرف زمین پر دولت اسلامیہ کے حملے نہیں بلکہ اتحادی افواج کے فضائی حملے بھی ہیں۔ ان ہوائی حملوں کی وجہ سے اتحادی افواج کو شدید خفت اٹھانی پڑی ہے اور عراقی حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کرنل محمد نے اس بات کا اعتراف کیا اور بتایا کہ ان کی بیوی اور بچے ان کو موصل آنے سے منع کرتے ہیں اور ان کو نہیں علم کو وہ یہاں ہیں۔ 'ان کو لگتا ہے کہ میں ٹریننگ کر رہا ہوں۔'

تو جب فضا سے وہ زمین پر بارود سے بھرا میزائل فائر کرتے ہیں جو شہر کے بیچ میں گرتا ہے تو ان کو کیسے یقین ہوتا ہے کہ وہ کسی معصوم شخص کی جان نہیں لے گا۔ کرنل محمد کے پاس صرف ایک جواب ہے: خدا پر یقین۔

لیکن صرف ایمان ان کی رہنمائی نہیں کر رہا۔ ہم نے کئی پائلٹس کو دیکھا جو میزائل آخر وقت تک فائر نہیں کرتے تھے۔ جہاز میں لگے کیمروں کی مدد سے جب تک ان کو دولت اسلامیہ کے جنگجؤوں کی واضع شکل نظر نہیں آتی تھی اس وقت تک فائرنگ نہیں ہوتی تھی۔ ہم نے کئی دفعہ دیکھا کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو نہتے بچوں کے ساتھ چل رہے ہیں۔

ایک دفعہ جب ہم واپس آئے تو دیکھا کہ رن وے پر ایک بڑا ہیلی کاپٹر کھڑا جس کی جانب لوگ تیزی سے دوڑ رہے ہیں اور ان کے ساتھ سٹریچر بھی ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ تین افراد جنگ میں ہلاک ہوئے جن میں سے ایک جنرل بھی شامل تھا۔

Image caption عراقی فوج کے پائلٹس میزائل فائر کرنے سے پہلے آخری وقت تک انتظار کرتے ہیں کہ شہریوں کو نقصان نہ پہنچے

یہ اس بات کی یاد دہانی تھی کہ بھلے سے جنگ کا نتیجہ اچھا آرہا ہو، اس میں نقصان ہمیشہ ہوتا ہے۔

جب عراقی فوج دو سال قبل موصل سے بھاگ گئی تھی تو دولت اسلامیہ کا شہر پر قبضہ ان کے لیے انتہائی شرمندگی کا باعث تھا۔ چناچہ اس دفعہ موصل کو جنگجؤوں کے قبضے سے چھڑانا صرف علاقہ فتح کرنے کے لیے نہیں بلکہ فوج کی عزت اور وقار کی بحالی کے لیے بھی ہے۔

اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بغداد میں عراقی حکومت موصل کے شہریوں کے ساتھ ہے۔ ہر وہ میزائل، گولہ و بارود جس سے شہریوں کو نقصان پہنچتا ہے وہ دولت اسلامیہ کے ہارتے ہوئے جنگجؤوں کو پروپگینڈا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں