بریگزٹ کے بعد: جبرالٹر پر جھگڑا کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

جب سے برطانیہ نے بریگزٹ کے لیے یورپی یونین کے سربراہ کو خط لکھ کر رسمی کارروائی کا آغاز کیا ہے، جبرالٹر پر ایک نیا قضیہ سر اٹھا رہا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ایک پہاڑ کی وجہ سے اتنی کشیدگی کیوں اور یہ کیوں اہم ہے؟

جبرالٹر ’برطانوی‘ کیوں ہے؟

سپین کے جنوب میں حد پر واقع جبرالٹر 711 سے لے کر 1462 تک مسلمان باشندوں کے ایک گروپ کے زیرِ تسلط رہا۔ مسلمانوں کے بعد سپین نے اس علاقے پر حکمرانی قائم کی۔

علیحدگی کا آغاز: بریگزٹ کا خط یورپی اتحاد کے حوالے

بریگزٹ کا فیصلہ، اب آگے کیا ہو گا؟

1704 میں اینگلو ڈچ فوج نے اسے سپین سے چھین لیا لیکن نو سال بعد یعنی 1713 میں یہ برطانیہ سے جڑ گیا اور تب سے آج تک یہ برطانوی علاقہ کہلاتا ہے۔

جبرالٹر کا رقبہ پانچ اعشاریہ نو کلو میٹر ہے اور اس کی شہرت کی بڑی وجہ اس پر کھڑا 1300 فٹ بلند چونے کا ایک پہاڑ ہے جسے راک آف جبرالٹر کہتے ہیں۔

سپین اور جبرالٹر کے رہائشیوں کا موقف کیا ہے؟

سپین کا کہنا ہے کہ جبرالٹر کو سپین میں تخت نشینی کی نزع کے تناظر میں حاصل کیا گیا۔

برطانیہ کہتا ہے کہ ایک معاہدے کے تحت سپین نے جبرالٹر کو اس کا حصہ بنا دیا تھا۔ برطانیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے زیادہ دیر تک جبرالٹر پر حکمرانی کی ہے۔

دونوں ملک اپنے دعووں کے ثبوت میں اقوامِ متحدہ کی قرادادوں کا حوالہ دیتے ہیں۔

جبرالٹر جس کی آبادی 32,000 افراد پر مشتمل ہے، دعویدار ہے کہ اس کے پاس حقِ خود ارادیت ہے لیکن سپین اس بات کو نہیں مانتا۔

جبرالٹر کے رہنے والے برطانوی شہری ہیں اور انھوں نے سنہ 2002 میں 99 فیصد ووٹوں سے اس بات کو مسترد کر دیا تھا کہ جبرالٹر کی خود مختاری مشترکہ طور پر برطانیہ اور سپین کے پاس ہو۔

جبرالٹر اہم کیوں ہے؟

اگرچہ جبرالٹر بہت چھوٹا سے خطۂ زمین ہے لیکن دفاعی نقطۂ نظر سے اپنے محلِ وقوع کے باعث اہم بہت ہے۔ یہ افریقہ کے شمالی ساحل سے صرف بارہ میل دور ہے۔

یہاں برطانیہ کا فوجی اڈہ ہے، بندرگاہ ہے اور جہازوں کے اڑنے اور اترنے کے لیے فضائی پٹی بھی ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں جبرالٹر ایک اہم بحری اڈہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جبرالٹر کا محلِ وقوع تجارتی جہاز رانی، تیل کی ترسیل اور فوج سے متعلق سازوسامان کی منتقلی کے لیے بھی اسے اہم بنا دیتا ہے۔

سپین کا الزام ہے کہ جبرالٹر کارپوریٹ ٹیکس گزاروں کے لیے پناہ گاہ بن گیا ہے کیونکہ یہ کمپنیوں اور مالدار افراد کو بڑی بڑی رقوم کی ادائیگی سے بچاتا ہے۔

اگرچہ یہ یورپی اتحاد کا حصہ ہے لیکن جبرالٹر یورپی اتحاد کے باہر سے درآمدات پر اپنے ٹیرف خود مقرر کر سکتا ہے۔

سپین کا خیال ہے کہ جبرالٹر کی سرحد کا ناجائز استعمال ہو رہا ہے جس سے سپین کے وسائل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس میں خاص طور پر سگریٹوں کی سمگلنگ ہے۔

جب سے برطانیہ نے یورپی اتحاد کو چھوڑنے کا عمل شروع کیا ہے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یورپی یونین کے مسودے کے مطابق مستقبل میں برطانیہ کے ساتھ جو بھی طے ہوگا وہ سپین کی مرضی کے بغیر جبرالٹر پر لاگو نہیں ہوگا۔ یعنی سپین کو جبرالٹر پر ایک قسم کا ویٹو مل جائے گا۔

اطلاعات ہیں کہ سپین نے جو یورپی یونین کا رکن ہے، اس شرط کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کافی کوششیں کی ہیں۔

جبرالٹر نے الزام عائد کیا ہے کہ سپین، بریگزٹ کی آڑ میں اپنے علاقائی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ جبرالٹر کے رہنے والوں نے (جو برطانوی شہری ہیں) گذشتہ برس جون میں برطانیہ میں ہونے والے اس ریفرنڈم کو 96 فیصد کی اکثریت سے مسترد کیا تھا کہ یورپی اتحاد سے علیحدگی کر لی جانی چاہیے۔

بعض حلقوں نے برطانیہ پر تنقید کی ہے کہ بریگزٹ کے عمل کے آغاز کے لیے جو خط لکھا گیا اس میں جبرالٹر کا ذکر نہیں ہے۔ لیکن وزرا کہتے ہیں کہ ایک علیحدہ دستاویز میں اس کا ذکر ہے اور یہ کہ برطانیہ جبرالٹر کے مفادات کے تحفظ کا پابند ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ بورس جانسن کا کہنا ہے 'جبرالٹر کی خود مختاری میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی آئے گی۔'

سپین کہتا ہے کہ جبرالٹر کے بارے میں 'برطانیہ میں تبصروں کا رنگ ڈھنگ' اس کے لیے حیران کن ہے۔

اسی بارے میں