سزائے موت کے تنازع پر امریکی پراسیکیوٹر مقدمات سے الگ

مز آئلہ تصویر کے کاپی رائٹ HANDOUT
Image caption مز آئلہ مرکزی فلوریڈا کے نائنتھ جوڈیشیئل سرکٹ کی منتخب مستغیث ہیں

امریکی ریاست فلوریڈا کے گورنر نے ایک پراسیکیوٹر کو قتل کے 21 مقدمات سے اس وقت ہٹا دیا جب انھوں نے کہا کہ اب وہ کسی کے لیے بھی سزائے موت کا مطالبہ نہیں کریں گی۔

ریپبلکن گورنرر رک سکاٹ نے کہا وہ ایرامس آئلہ کے تمام مقدمات کو دوسروں کے سپرد کر رہے ہیں کیونکہ ان کے بیان سے ایک ناقابل قبول پیغام جاتا ہے۔

مز آئلہ دیموکریٹ ہیں اور اورلینڈو کے واقعات کو دیکھ رہی ہیں۔ انھوں نے ایک مقتول خاتون پولیس کے مقدمے کے بارے میں قانونی افراتفری کا حوالہ دیتے ہوئے مرتکبین کے لیے پھانسی کی سزا کا مطالبہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

٭ امریکہ ابو قتالہ کی سزائے موت کا مطالبہ نہیں کرے گا

ان کے فیصلے پر ایک شور برپا ہو گيا ہے۔ لیکن بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جو ان کی حمایت کر رہے ہیں اور گذشتہ ہفتے ان کی حمایت میں ریاستی دارلحکومت ٹیلاہیسی میں ریلی بھی نکالی۔

سوموار کو مسٹر سکاٹ نے کہا: سرکاری وکیل آئلہ کا مکمل طور پر سزائے موت سے انکار ایک ناقابل قبول پیغام دیتا ہے کہ وہ انصاف کی لڑائی میں تمام موجود آپشن پر غور کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔'

مز آئلہ مرکزی فلوریڈا کے نائنتھ جوڈیشیئل سرکٹ کی منتخب مستغیث ہیں۔ انھوں نے گورنر پر اپنے عہدے کا غلط فائدہ اٹھانے اور عدلیہ کی آزادی کو داؤ پر لگانے کا الزام لگایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ریپبلکن گورنرر رک سکاٹ ریاست میں پھانسی کی سزا کو پھر سے قائم کرنا چاہتے ہیں

انھیں جنوری میں چار سال کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ جس مقدمے کے نتیجے میں اس تنازعے نے سر ابھارا ہے اس میں ایک شخص پر اورلینڈو کی ایک پولیس افسر کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

گذشتہ ماہ جب مز آئلہ نے کہا تھا کہ وہ ملزم مارکیتھ لائڈ کی سزائے موت کے بارے میں غور نہیں کریں گی تو گورنر نے انھیں اس مقدمے سے ہٹا دیا تھا۔

یہ مقدمہ سٹیٹ اٹارنی بریڈ کنگ کو دے دیا گیا اور اب وہ ان 21 مقدمات کو بھی دیکھیں گے جو مز آئلہ سے پیر کو واپس لے لیے گئے۔

خیال رہے کہ فلوریڈا میں گذشتہ 15 ماہ سے سزائے موت پر ایک قسم کا تعطل جاری ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں