امریکی انتخابات میں روسی مداخلت: تفتیشی پینل کے سربراہ عہدے سے دستبردار

ڈیون نیونیز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈیون نیونیز نے اپنے خلاف الزامات کو بےبنیاد اور سیاسی قرار دیا ہے

امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی تفتیش کرنے والے کانگریسی پینل کے سربراہ عارضی طور پر اپنے عہدے سے دستبردار ہو گئے ہیں۔

ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ڈیون نیونیز اب خود ایوان کی اخلاقی کمیٹی کی جانب سے تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں۔

پینل اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ڈیون نیونیز نے خفیہ معلومات افشا کی تھیں۔

نیونیز نے ان الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی قرار دیا ہے۔

کانگریس کے رکن مائیک کانووے اب روسی تحقیقات کی سربراہی کریں گے۔

نیونیز نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب ’دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی متعدد کارکن تنظیموں نے کانگریس کے اخلاقیات کے دفتر میں میرے خلاف الزامات دائر کیے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ بطور چیئرمین اپنی دوسری ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے اور انھوں نے اخلاقی کمیٹی سے بات کرنے کی اجازت طلب کی ہے تاکہ وہ ’ان غلط الزامات کو جلد از جلد رد کروا سکیں۔‘

ڈیموکریٹ ارکان نے نیونیز پر تنقید کی ہے کہ وہ اس تفتیش کو غلط طریقے سے چلا رہے ہیں۔ اس میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا ٹرمپ کی صدارتی مہم اور روس کے درمیان کوئی روابط تو نہیں تھے۔

ایوان کے سپیکر پال رائن نے کہا ہے کہ وہ نیونیز کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ نیونیز پر اعتماد کرتے ہیں اور وہ ’اخلاقیاتی کمیٹی کے سامنے یہ ظاہر کرنے کے لیے تیار ہیں کہ انھوں نے تمام مناسب رہنما اصولوں اور قوانین کی پیروی کی ہے۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ تفتیش سے ہاؤس کی انٹیلی جنس کمیٹی کی توجہ بٹ جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں