شام پر حملہ، ٹرمپ کی تنہائی پسند پالیسی کا خاتمہ؟

ڈونلڈ ٹرمپ

چار سال قبل شامی حکومت نے اپنے ہی شہریوں پر ہولناک کیمیائی حملہ کیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ شام پر جوابی فوجی حملہ نہ کرے۔

انھوں نے ٹویٹ کی تھی: ’صدر اوباما کو ہمارے ملک، روزگار، صحت، اور ہمارے دوسرے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘ اور ’شام کو بھول جاؤ، امریکہ کو دوبارہ عظیم بناؤ۔‘

٭ شام میں مبینہ کیمیائی حملہ، 'کم از کم 58 ہلاک'

٭ شام میں کیمیائی حملہ انسانیت کی توہین ہے: ٹرمپ

دو سال قبل ٹرمپ نے اپنی کامیاب صدارتی مہم کا آغاز کیا تو ان کے یہی خیالات تھے۔ انھوں نے ڈیموکریٹس اور بعض رپبلکن رہنماؤں کی ’مداخلت پسندانہ خارجہ پالیسی‘ پر کڑی تنقید کی تھی۔

صرف ایک ہفتہ قبل امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹِلرسن نے شامی صدر بشارالاسد کی اقتدار سے علیحدگی کے مطالبے کو گھٹا کر پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس کا تعین شامی عوام کریں گے۔‘

پھر کیمیائی حملے کے دو دن بعد جمعرات کی رات صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی حکومت کے ہوائی اڈے پر میزائل حملے کا حکم نامہ جاری کیا۔

یہ اقدام امریکی خارجہ پالیسی کے بارے میں ٹرمپ کی سابقہ پالیسیوں اور بیانات سے یکسر مختلف ہے۔

حملے کے بعد انھوں نے واضح کیا کہ یہ ’امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد میں کیا گیا تاکہ اس سے مہلک کیمیائی ہتھیاروں کا پھیلاؤ اور استعمال روکا کیا جا سکے۔‘

انھوں نے ’مہذب ملکوں‘ پر زور دیا کہ وہ شامی خانہ جنگی کے نتیجے میں ہونے والے خون خرابے اور قتلِ عام کو روکیں اور کہا کہ ’امن اور ہم آہنگی‘ کی فتح ہو گی۔

وہ شخص جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ تنہائی پسند ثابت ہوگا، اقتدار میں آنے کے صرف چند ماہ بعد ہی بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کروانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے بیرونِ ملک امریکی فوجی طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔

خوبصورت بچے

اس دوران کیا تبدیل ہوا ہے؟

یہ بات واضح ہے کہ مرتے ہوئے شامی شہریوں اور صدر ٹرمپ کے الفاظ میں ’خوبصورت بچوں‘ نے امریکی صدر پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر واشنگٹن کے دائیں اور بائیں بازو کے سیاست دانوں نے اس حملے کی تحسین کی ہے۔ تاہم آنے والے دنوں میں کچھ سنگین سوالات سامنے آ سکتے ہیں۔

اگر صدر کی خارجہ پالیسی اتنی جلدی بدل سکتی ہے تو پھر ان کے اتحادی اور دشمن اسے لچک قرار دیں گے یا پھر غیر مستقل مزاجی؟

کروز میزائل کے ذریعے حملہ ایک ایسا فوجی قدم ہے جس میں خطرات کم ہوتے ہیں، تاہم اس کا اثر بھی اتنا ہی کم ہوتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے اسے تنبیہ قرار دیا۔

اگر شامی صدر نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھا، یا ان کے کسی روایتی حملے میں شہریوں کا بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا تو کیا امریکہ اس کا بھی فوجی جواب دے گا؟ یا پھر وہ الگ تھلگ رہ کر کمزوری کا تاثر دے گا؟

جب صدر اوباما نے شامی حکومت کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تھا تو انھوں نے اس مقصد کے لیے کانگریس کی حمایت حاصل کی تھی۔ کیا آئندہ ٹرمپ بھی ایسا ہی کریں گے؟ اور کیا ڈیموکریٹ بھی ان کی حمایت کریں گے؟

جمعرات کی رات صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا پہلا بڑا امتحان تھا۔ اور لگتا ہے کہ ان کے الفاظ، عمل اور طور طریقے میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے۔ وہ امیدوار جو ہمیشہ ’امریکہ پہلے‘ کا نعرہ لگاتا رہتا تھا، اس نے جمعرات کی رات صدر اپنے ملک نہیں بلکہ تمام دنیا کے لیے خدا کی رحمت کی دعا کی۔

یہ حملہ اور ٹرمپ کا بدلا ہوا رویہ محض تنہا واقعہ ہو سکتا ہے۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ ایک اور عالمگیریت پسند رہنما کا جنم ہو گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں