ٹرمپ، پوتن، خلیجی شہزادہ اور بلیک واٹر

ایرک پرنس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عراق اور افغانستان میں بلیک واٹر کی کارروائیوں کے بارے میں امریکی سینیٹ نے ایرک پرنس سے سنہ 2015 میں سوال جواب کیے تھے۔

کچھ امریکی، یورپی اور عرب سرکاری افسران کے مطابق روس اور امریکی نامزد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پس پردہ رابطہ کرانے میں متحدہ عرب امارات نے اہم کردار ادا کیا تھا اور اس سلسلے میں صدر پوتن کے قریبی ساتھیوں اور سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس کے درمیان ایک اہم ملاقات جنوری میں ہوئی تھی۔

امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ ملاقات بحرِ ہند کے جزیرے سیشلز پر ہوئی تھی۔

اخبار کے بقول مختلف سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایرک پرنس اور صدر ولادی میر پوتن کے قریبی ساتھیوں کے درمیان یہ ملاقات صدر ٹرمپ کی حلف برداری سے ٹھیک نو دن پہلے، یعنی 11 جنوری کو کرائی گئی تھی۔

اس ملاقات میں کن کن امور پر بات ہوئی، اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم متحدہ امارات یہ ملاقات کرانے پر رضامند اس لیے ہوا تھا کہ اس میں روس کو قائل کیا جائے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات محدود کر دے اور خاص طور پر شام میں جاری جنگ میں ایران کا ساتھ نہ دے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ اگر روس ایران کی پشت پناہی ترک کرتا ہے تو اس کے خلاف پابندیوں میں نرمی کی جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی صدر کی خفیہ مدد کے الزام کا سامنا ہے اور مختلف ادارے ان الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں

واشنگٹن پوسٹ سے بات کرنے والے سرکاری حکام کے مطابق اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں ایرک پرنس کا کوئی باقاعدہ کردار نہیں رہا، لیکن انتخابی مہم کے دنوں میں وہ متحدہ عرب امارات کے مقتدر حلقوں میں خود کو ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر سرکاری نمائندے کی حیثیت میں پیش کرتے رہے ہیں۔ سیشلز میں ہونے والی ملاقات سے اس خیال کی تائید ہوتی ہے کہ ایرک پرنس کو واقعی ڈونلڈ ٹرمپ کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا رہا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ ایرک پرنس ڈونلڈ ٹرمپ کے زبردست حامی رہے ہیں۔ رپبلکن پارٹی کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزدگی کے بعد جب ان کی انتخابی مہم شروع ہوئی تو مسٹر پرنس نے مہم کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالر کا عطیہ بھی دیا تھا۔ اس کے علاہ ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقے میں شامل کئی اہم افراد اور مسٹر پرنس کے درمیان گہرے تعلقات بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا تفتیشی ادارہ ’ایف بی آئی‘ بھی سیشلز میں ایرک پرنس اور روسی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تفتیش کر رہا ہے اور اس ملاقات کو امریکی انتحابات میں روس کی مبینہ مداخلت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے واشنگٹن پوسٹ نے جب ایف بی آئی سے پوچھا تو ایجنسی نے کوئی تبصرہ کرنے سے معذرت کر لی۔

اخبار کا کہنا ہے کہ سیشلز میں ہونے والی بات چیت دو دن جاری رہی تھی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اس ملاقات کی تصدیق کرنے سے انکار کرتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری شان سپائسر کے بقول ’ہمیں اس قسم کی کسی ملاقات کے بارے میں کوئی علم نہیں اور نہ ہی صدارت کی منتقلی میں ایرک پرنس کا کوئی کردار تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادہ محمد بن زید النہیان نے سابق امریکی وزیر خارجہ سے بھی شام میں ایران کے کردار کے حوالے سے خلیجی ریاستوں کے تحفظات کا اظہار کیا تھا

دوسری جانب مسٹر پرنس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ مسٹر پرنس نے صدارت کی منتقلی میں کوئی کردار ادا کیا۔ سیشلز میں ہونے والی ملاقات کا صدر ٹرمپ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ وہ نام نہاد، وسائل کی کمی کا شکار ادارہ جس کا کام دہشت گردوں کا پیچھا کرنا ہے، وہ امریکی شہریوں کی نگرانی کرنے پر کیوں لگا ہوا ہے؟‘

ایرک پرنس کی شہرت کی وجوہات کئی ہیں، تاہم ان کی شہرت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ بلیک واٹر کے بانی ہیں۔ یہ وہی کمپنی ہے جس کی وجہ سے عراق میں امریکہ کو خاصی بدنامی کا سامنا کرنا پڑ گیا تھا اور اس کمپنی کے اہلکاروں کے ہاتھوں مقامی لوگوں پر تشدد کی خبریں معمول بن گئی تھیں۔

بعد کے برسوں میں مسٹر پرنس نے بلیک واٹر فروخت کر دی تھی اور آج کل وہ ہانگ کانگ میں قائم ایک دوسری کپمنی ’فرنٹیئر سروسز گروپ‘ کے سربراہ ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ مسٹر پرنس کو اپنی انتظامیہ میں شامل کرتے کیونکہ وہ بلیک واٹر کے مالک ہونے کے حوالے سے خاصے متنازع ہو چکے تھے۔

لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے کئی اہم ارکان کے ساتھ ذاتی تعلقات کی بنیاد پر وہ متحدہ عرب امارات کے حکمران خاندان اور دیگر اشرافیہ کو قائل کرنے میں کامیاب رہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے بہت قریب ہیں۔ سنہ 2010 میں مسٹر پرنس کو امریکہ میں کئی قانونی مسائل کا سامنا تھا جس کے بعد وہ اپنا کاروبار سمیٹ کر خلیجی ریاستوں میں منتقل ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلیک واٹر کو عراق میں اپنی حدود سے تجاوز کرنے اور مقامی لوگوں پر تشدد کرنے کے الزامات کا سامنا رہا ہے

سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ولادی میر پوتن کے درمیان غیر سرکاری اور خفیہ رابطوں کو تقویت دینے کے لیے سیشلز میں ہونے والی ملاقات کو ممکن بنانے میں ابو ظہبی کے ولی عہد، شیخ محمد بن زید النہیان اور ان کے بھائی نے اہم کردار ادا کیا۔ شیخ محمد النہیان کے بھائی خود متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے ادارے کے سربراہ ہیں۔

مذکورہ افسران کے بقول ابو ظہبی کے ولی عہد ٹرمپ اور پوتن، دونوں رہنماؤں کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کی خواہش تھی کہ متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے مشترکہ دشمن یعنی ایران اور روس کے درمیان تعلقات کو بگاڑا جائے۔

جنوری میں جب سیشلز میں ملاقات ہوئی تو ان دنوں ذرائع ابلاغ اور امریکی تفتیشی ادارے ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان اور روسی حکام کے درمیان مبینہ رابطوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔ ملاقات سے محض ایک ہفتہ پہلے امریکی خفیہ اداروں نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں روس پر واضح الفاظ میں الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے 2016 کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو فتح دلانے میں خفیہ مدد کی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے امریکی اور روسی حکام کے درمیان ملاقات کرانے کے حوالے سے امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ سے پوچھا تو انہوں نے اس پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

دوسری جانب جب اسے حوالے سے سیشلز کے سرکاری حکام سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ جزیرے پر واقع پرتعیش ہوٹل اور دیگر مقامات پر اس قسم کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں جس کا ذکر امریکی اور خلیجی حکام کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں