کیمیائی حملہ: روس کی تردید، شامی فوج پر الزام

شام تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

روس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا گیا ہے کہ اس نے شمالی شام میں شہریوں پر کیمیائی حملہ باغیوں نے کیا ہے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ، ایک باغی کمانڈر اور ہتھیاروں کے ایک ماہر تمام کا کہنا ہے کہ شواہد اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ حملہ شام کی حکومتی فوج نے کیا ہے۔

تاہم شامی فوج نے کہا ہے کہ دمشق میں کیمیائی حملہ انھوں نے نہیں کیا۔

یہ معاملہ برسلز میں شام سے متعلق ہونے والی کانفرنس میں نمایاں رہے گا۔ اس کانفرنس میں شریک 70 امدادی ملک جنگ زدہ شام کو امداد دینے کی کوششوں پر بات کریں گے۔

شام میں مبینہ کیمیائی حملہ، 'کم از کم 58 ہلاک'

شامی فوج پر ادلیب میں کلورین بم گرانے کا الزام

شام میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم سئیرین آبزرویٹری فارہیومن رائٹس کے مطابق ادلب کے علاقے خان شیخون میں زہریلی گیس کے حملے میں 20 بچوں سمیت 72 افراد ہلاک ہوئے۔

منگل کو ہونے والے اس حملے کے متاثرین کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کراہ رہے ہیں اور ان کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے۔

ان میں سے چند متاثرین کو سرحد پار ترکی میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ہسپتال میں زیرِ علاج ایک خاتون نے کہا کہ 'ہم گیس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہم کھڑے نہیں ہو سکتے۔ مجھے چکر آرہے تھے اور میں خود کو بیمار محسوس کر رہی تھی۔ مجھے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔'

روس کا موقف کیا ہے؟

روس کا کہنا ہے کہ شام میں درجنوں افراد کو ہلاک کرنے والے مبینہ طور پر کیمیائی حملے کی ذمہ دار باغی فورسز ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ شامی لڑاکا طیاروں نے ادلیب صوبے میں خان شیخون نامی قصبے کو نشانہ بنایا ہے تاہم اس فضائی کارروائی میں زہریلے مواد سے بھری بارودی سرنگوں کے ایک ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ اسے اس بات کا ’یقین‘ ہے کہ شام کے شمال مغربی علاقے میں ہونے والے بظاہر کیمیائی حملے میں بشار الاسد کی حکومت ملوث ہے۔

تاہم شامی حکام نے ایسے کسی ہتھیار کے استعمال کا انکار کیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور طبی عملے کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد جنگی جہازوں نے نشانہ بننے والے افراد کا علاج کرنے والے مقامی کلینکس پر راکٹس داغے۔

عالمی ردِعمل

حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ برنس جانسن کا کہنا ہے کہ 'میں نے جتنے بھی شواہد دیکھے ہیں ان سے یہ معلوم ہوا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت نے اپنے ہی لوگوں پر ہتھیار اٹھائے۔‘

شام میں باغی فوج کے ایک کمانڈر نے روسی فوج کے بیان کو جھوٹ قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حسن حج علی جو کہ فری ادلب آرمی نامی باغی گروہ کے کمانڈر ہیں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 'ہر کسی نے طیاروں کو دیکھا جب وہ گیس کے بم برسا رہے تھے۔'

'تمام شہری جانتے ہیں کہ وہاں فوج کی پوزیشنز نہیں تھیں۔۔۔ اپوزیشن کے مختلف گروہ اس قسم کا مواد بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔'

ادھر کیمیائی ہتھیاروں کے ایک ماہر کرنل ہمیش ڈی بریٹن گورڈن نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ اس وقعے سے متعلق روس کا بیان قیاس آرائی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ خیال کہ سیرن نامی گیس ہتھیار بنانے کی جگہ پر حملے کی وجہ سے پھیلی 'نامناسب' ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور اسے صدر بشارالاسد کی حکومت کا وحشیانہ اقدام قرار دیا ہے۔

حزب اختلاف کے حمایتی ادارے ادلب میڈیا سینٹر نے تصاویر جاری کی ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگوں کا علاج ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور ان تصاویر میں سات بچوں کی لاشیں بھی نظر آ رہی ہیں۔ لیکن ان تصاویر کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شامی حکومت نے مسلسل اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرتی رہی ہے۔ لیکن اقوام متحدہ اور تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار نے پچھلے سال اکتوبر میں تحقیق کے بعد کہا تھا کہ شامی حکومت 2014 سے 2015 کے درمیان کم از کم تین دفعہ کلورین کو بطور ہتھیار استعمال کیا تھا۔

اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے بھی سلفر مسٹرڈ نامی کیمیائی مادہ بطور ہتھیار استعمال کیا تھا۔

اسی بارے میں