عراقی شہر تکریت میں حملہ، متعدد عام شہری ہلاک

تکریت شہر کا ایک منظر (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تکریت شہر کا ایک منظر (فائل فوٹو)

عراق کے شہر تکریت میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے مشتبہ جنگجوؤں کے ایک حملے میں 30 سے زائد افراد ہلاک اور ہو گئے ہیں۔

پولیس ذرائع نے بی بی کو بتایا ہے کہ شدت پسندوں نے پہلے مرکزی ضلع ذوہر میں گشت کرنے والے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور بعد میں انھوں نے عام شہریوں پر بھی فائر کھول دیا۔

حملہ کرنے والے شدت پسندوں میں سے دو نے پولیس کے ساتھ جھڑپ کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

تاحال کسی بھی گروہ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے تاہم حال ہی میں دولت اسلامیہ کی جانب سے اس قسم کے کئی حملے کیے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب پولیس کرنل خالد محمود نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پولیس یونیفارم پہنے تقریباً دس شدت پسند منگل کو ہونے والے حملے میں ملوث تھے۔

خالد محمود نے مزید بتایا کہ شدت پسندوں سے پہلے پولیس چیک پوسٹ اور قریب ہی ایک اعلیٰ اہلکار کے مکان کو نشانہ بنایا، جس میں وہ اور ان کے خاندان کے ارکان مارے گئے۔

ان کے مطابق اسی دوران جب پولیس اہلکاروں نے ان شدت پسندوں کو گھیرے میں لیا تو دو شدت پسندوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جبکہ دیگر تین بھی جھڑپوں کے دوران مارے گئے۔

کرنل محمود کے مطابق شدت پسندوں کے دیگر پانچ ساتھیوں کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ یہیں کہیں چھپے ہوئے ہیں جس کے لیے مقامی انتظامیہ نے تب تک کرفیو نافذ کر رکھا ہے جب تک وہ مل نہیں جاتے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب عراقی فوج کا موصل کو دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول سے چھڑانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ موصل عراق میں دولتِ اسلامیہ کا آخری بڑا گڑھ ہے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے جون 2014 میں موصل پر قبضہ کیا تھا اور عراقی افواج کی حالیہ کارروائی پچھلے سال اکتوبر سے جاری ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں