ملائیشیا: ریپ ہونے والی لڑکی کی حملہ آور سے شادی کی تجویز پر تنقید

ریپ کا نشاشنہ بننے والی بچی کا ہاتھ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیا ریپ کا نشانہ بننے والی کوئی لڑکی اس پر جنسی زیادتی کرنے والے سے شادی کرنا چاہے گی یا اس کے خلاف مقمدہ درج کرنا چاہے گی؟

ملائشیا کے ایک رکنِ پارلیمان کے اس بیان پر سخت تنقید کی جا رہی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون اور اس پر جنسی حملہ کرنے والے فرد کی شادی ہو جانے میں بہتری ہے۔

حکمراں جماعت کے رکن شہاب الدین یحیی نے یہ بات بدھ کو پارلیمان میں کہی۔

ترکی میں احتجاج کے بعد ریپ سے متعلق بل واپس

ملائشیا نے ابھی بچوں کے خلاف جنسی نوعیت کے جرائم سے متعلق نیا قانون بنا ہے اور اسی پر بحث کے دوران شہاب یحییٰ نے یہ بات کہہ دی۔

اس نئے قانون میں کم عمری کی شادیوں پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے اور ملائیشیا میں سولہ سال سے کم عمر کے مسلمان نوجوان کی بھی مخصوص حالات میں شادی ہو سکتی ہے۔

یحیٰی شہاب الدین نے کہا کہ اگر حملہ آور اور حملے کا نشانہ بننے والی خاتوں کی شادی ہو جائے تو وہ ایک بہتر اور خوش زندگی گزار سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان کا مستقبل شادی کرنے سے بہتر ہوگا، کم از کم اس خاتون کا کوئی شوہر تو ہوگا اور شادی سے بہت سی سماجی مشکلات دور ہو سکتی ہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کے ان کے خیال میں کئی کم عمر بچیاں بھی شادی کے لیے تیار ہوتی ہیں کیونکہ بقول ان کے ’میں نے بارہ اور پندرہ سال کی ایسی بچیاں بھی دیکھی ہیں جو جسمانی لحاظ سے اٹھارہ برس کی معلوم ہوتی ہیں۔‘

رکن پارلیمان کے اس بیان پر ملائیشیا میں بچوں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’وائس آف چلڈرن‘ نے کہا ہے کہ یہ باعث تشویش ہے۔

تنظیم کی رکن شرمیلہ سکاران نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان جیسے سیاستدان خطرناک اور قدامت پسند آراء کا اظہار کر تے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ریپ کوئی بری بات نہیں ہے۔ یہ انتہائی غیر مناسب ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بدھ کو پارلیمان میں موجود بیشتر لوگوں نے شہاب الدین کے اس بیان پر غصے کا اظہار کیا۔

یحییٰ شہاب کے ایک ساتھی رکن پارلیمان نے میڈیا کو بتایا کہ اس بیان سے وہ حیران بھی ہوئے ہیں اور مایوس بھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جرم کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور اس کو شادی کے ذریعے قانون سے بچنے کا موقع دینا غلط ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکیسویں صدی میں اس طرح کی تجویز کی کوئی جگہ نہیں ہے اور حکومت اور قانون سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملائیشیا کے بچوں کا تحفظ کریں۔