وہ کون تھا؟

سی سی ٹی وی فوٹیج تصویر کے کاپی رائٹ PA

شروع میں اس کا کوئی نام نہیں تھا، شناخت بھی نہیں تھی۔ اس کا کل وجود پولیس انسیڈنٹ لاگ یا روزنامچے میں درج نمبر 936 تھا۔ مانچسٹر پولیس تمام تر کوششوں کے باوجود اس بات کا تعین نہیں کر پائی تھی کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے، جس جگہ سے اس کی لاش ملی ہے وہ وہاں کیوں موجود تھا، کیا کر رہا تھا۔

اس گتھی کو سلجھانے میں اولڈھم سی آئی ڈی کے ڈیٹیکٹو سارجنٹ جان کولمین، پی سی نکولا چیپمین اور پی سی کیلی برگ ایک سال تک سرگرداں رہے، لیکن گتھی تو کیا سلجھتی وہ اس کا سرا تک نہ پکڑ سکے۔

وہ کون شخص تھا؟

جب انھیں محسوس ہوتا کہ وہ اِن بھول بھلیوں میں سے نکلنے کا راستے تلاش کرنے ہی والے ہیں، ان کے سامنے بھی کوئی دیوار آ کھڑی ہوتی اور انھیں اپنا سفر وہیں سے شروع کرنا پڑتا جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا۔

اس کے پاس سے ملنے والا کل سامان اس کے تن کے کپڑے، پرانے مگر نفیس اور قیمتی، دس دس کے نوٹوں میں 130 پاؤنڈ اور مانچسٹر پِکاڈلی سے لندن یوسٹن سٹیشن تک واپسی کا ٹرین ٹکٹ تھا۔ اس کے علاوہ اس کے پاس سے گلے کی بیماری تھائی رائیڈ یا گِلھڑ کی دوا تھائی ریکس سِن سوڈیم کی ایک خالی بوتل بھی پڑی تھی جس پر انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی تشریحی نوٹ درج تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ دوائی ڈرگ مینوفیکچرنگ کمپنی گلیکسو سمتھ کلائن نے پاکستان میں قائم اپنی فیکٹری میں تیار کی ہے۔

دوائی کی اس خالی بوتل کی وہاں موجودگی سے تفتیش کاروں کے لیے یہ معمہ اور بھی گھمبیر ہو گیا تھا کہ سفید فام عمر رسیدہ شخص کے پاس پاکستان میں تیار ہونے والی دوائی کیسے موجود تھی؟

چند روز بعد جب انھیں پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ موصول ہوئی تو انھیں پتا چلا کہ اس ڈبی میں تھائی ریکس سِن سوڈیم نہیں بلکہ سٹریکنن نامی زہر تھا۔ یہ زہر آج کل برطانیہ میں فروخت نہیں ہوتا اور اس کا ذکر 1930 کی دہائی میں انگریزی کہانی کار آگاتھا کرسٹی کی کہانیوں اور ڈراموں ہی میں ملتا ہے۔ پاکستان میں اس زہر کو البتہ چوہے مار گولیوں میں ملایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اسے منشیات میں ملا کر تجرباتی طور پر استعمال کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption شناخت کروانے کے لیے پولیس نے یہ خاکہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے عام کیا گیا

اس وقت تک تفتیش کاروں کو یہ کام کچھ زیادہ مشکل نہیں لگ رہا تھا۔ آخر انھیں اس شخص کی شناخت ہی کو تو تلاش کرنا ہے جو مانچسٹر اور لندن ہی کے درمیان ہی کہیں مل جائے گی۔ انھیں یہی لگ رہا تھا کہ وہ جب میڈیا کے ذریعے اس شخص کی تفصیلات جاری کریں گے تو اس کا کوئی رشتہ دار یا جان پہچان والا سامنے آ ہی جائے گا۔

ابھی ٹیم کے اندر تفتیش کے ان پہلوؤں پر غور و فکر جاری تھا کہ پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ موصول ہوگئی جس کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کے ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے آپریشن کے دوران ایک پلیٹ لگائی گئی تھی جو سیالکوٹ میں سرجیکل آلات بنانے والی ایک فیکٹری میں تیار کی گئی تھی۔

اس نئے انکشاف نے تحقیق کا رخ مکمل طور پر پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ نئے انکشاف کے بعد تفتیش مانچسٹر اور لندن کے درمیان تین سو میل کے علاقے سے پھیل کر ساڑھے تین ہزار میل تک پھیل گئی تھی جو یقینی طور پر ایک آسان کام نہیں تھا۔

اس میں ہمت افزا بات یہ سامنے آئی کہ سرجیکل آلات بنانے والی کمپنی نے وہ بیچ جس کا وہ پلیٹ حصہ تھی پاکستان میں محدودے چند ہسپتالوں کو سپلائی کیا تھا۔ اس سے یہ امید پیدا ہو چکی تھی کہ اگر تفتیش کار اس سرجن تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جس نے اس شخص کا آپریشن کیا تھا تو اس کا شناخت کا تعین کچھ مشکل نہیں ہو گا۔ لیکن یہ کام بھی بھوسے کے ڈھیر سے ایک سوئی کی تلاش کا عمل ثابت ہوا اور تلاش وہیں پر پہنچ گئی جہاں سے شروع ہوئی تھی۔

جب کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی اس شخص کی شناخت کا تعین نہ ہو سکا تو ہسپتال کے عملے نے جہاں اس کی لاش سرد خانے میں رکھی گئی تھی، اپنی سہولت کے لیے ایک عارضی نام دے دیا اور اس کی اصل شناخت سامنے آنے تک اسے نیل ڈؤسٹون کے نام سے پہچانا جاتا رہا۔

نیل اسے لیے رکھا گیا کیونکہ سردخانے میں کام کرنے والے ایک نرس کو اسے نام اچھا لگا تھا جبکہ ڈؤسٹون اس جگہ کا نام تھا جہاں سے اس کی لاش ملی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

تفتیشی ٹیم کو جلد ہی ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ رابطہ کرنے والے کا تعلق برطانیہ کے علاقے آکسفرڈ سے تھا اور اس کا کہنا تھا کہ پولیس نے جس شخص کی تصویر جاری کی ہو وہ اس کے والد سے ملتی ہے جو کئی سال پہلے بغیر بتائے گھر سے غائب ہو گئے تھے۔

اس ٹیلی فون کال سے تفتیشی ٹیم کی کچھ ہمت بندھی اور انھیں لگا کہ شاید ان کا کام آسان ہونے والے ہے۔ پولیس ٹیم نے آکسفرڈ جا کر کال کرنے والے کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے تاکہ اس کا نیل ڈؤسٹون سے کراس میچ کرایا جا سکے۔ وہ سانس روک کر ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کر رہے تھے تاہم جب یہ رپورٹ موصول ہوئی تو اسے پڑھ کر انھیں شدد مایوسی ہوئی۔

تفتیش کاروں نے پاکستان میں ہڈیوں سے سرجن کی تلاش میں ناکامی کے بعد سے اپنی حکمت علمی میں تبدیلی کی تھی اور اپنے ایک ساتھی کو ہیتھرو ایئرپورٹ ہر پاکستان کے آنے والی فلائٹوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو کھنگالنے پر لگا دیا تھا۔

٭ یہ تین حصوں پر مشتمل تحریر کا پہلا حصہ ہے۔