کرکٹر کا بیوی پر تشدد، عدالت کا فیصلے پر نظر ثانی کا اعلان

مصطفی بشیر مانچسٹر کراؤن کورٹ کے باہر تصویر کے کاپی رائٹ PAT ISAACS/CAVENDISH
Image caption مصطفی بشیر نے بیوی کو بیٹ سے قتل کرنے کی دھمکی دی تھی

ایک برطانوی عدالت نے پاکستانی نژاد برطانوی کرکٹر مصطفیٰ بشیر کو اپنی اہلیہ پر تشدد کرنے کے الزام میں کم سزا سنائے جانے کے بعد اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ مصطفیٰ بشیر پر گذشتہ ماہ اپنی بیوی کو کرکٹ بیٹ سے پیٹنے اور اسے بلیچ پلانے کا الزام تھا جس کے بعد مانچسٹر کراؤن کورٹ نے انھیں معطل سزا سنائی تھی۔

تفصیلات کے مطابق بشیر کے وکلا نے موقف پیش کیا تھا کہ اگر عدالت نے انھیں سزائے قید دی تو ان کا کرکٹ کریئر ختم ہو جائے گا اور لنکاشائر کرکٹ کلب کی طرف سے دیا جانے والا کنٹریکٹ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

تاہم انسانی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے جج رچرڈ مارشل کے معطل سزا کے فیصلے کے بعد شدید ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔

اس کے علاوہ جب لنکاشائر کرکٹ کونسل نے بشیر کے کیس کی تفصیلات میڈیا میں دیکھیں تو انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ انھوں نے بشیر کو کسی بھی قسم کے کنٹریکٹ کی پیشکش کی تھی۔

بشیر پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے اپنے کیس میں کنٹریکٹ کو دفاعی حکمتِ عملی بنا کر پیش کیا اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اگر انھیں جیل بھیجا گیا تو اس سے ان کا روزگار اور زندگی متاثر ہو گی۔

جس کے بعد عدالت نے مصطفیٰ بشیر کو عدالت نے 18 ماہ کی معطل سزا سنائی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں