شام میں کیمیائی حملہ انسانیت کی توہین ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شام کے تئیں ان کا رویہ تبدیل ہوچکا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی شام میں بظاہر شامی فضائیہ کی جانب سے ہونے والے کیمیائی حملے میں درجنوں عام شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے کہا: 'یہ انسانیت کی توہین ہے۔ جب آپ معصوم بچوں کا قتل کرتے ہیں، چھوٹے معصوم بچوں کا، اس سے تمام حدود کی پامالی ہوتی ہے۔'

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر روس کا ذکر نہیں کیا جس کا موقف ہے کہ شامی باغیوں کے پاس جو کیمیائی ہتھیار ہیں شاید انھیں استعمال کیا گيا ہوگا۔

جب ان سے سوال کیا گيا کہ کیا اب شام کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی آئےگی تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا: 'میں آپ کو بتاؤں گا، یہ پہلے ہی ہوچکا ہے، شام اور اسد کے تئیں میرا رویہ کافی حد تک بدل گيا ہے۔۔۔۔۔ اب آپ بالکل مختلف سطح کی بات کر رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وائٹ ہاؤس میں اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ شام کے تئیں ایک نئی پالیسی وضع کر رہے ہیں، تو ٹرمپ نے کہا: 'آپ دیکھیں گے۔'

اس سے پہلے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیئلی نے شامی حکومت کی حمایت کرنے پر روس پر نکتہ چینی کی تھی۔

شام پر سکیورٹی کاؤنسل کے اجلاس کے دوران انھوں نے کہا: 'روس دمشق میں اپنے اتحادی سے توجہ ہٹانے کے لیے بار بار وہی جھوٹا بیانیہ استعمال کرتا ہے۔'

انھوں نے امریکہ کی جانب سے ممکنہ یکطرفہ کارروائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: 'جب اقوام متحدہ متاثر کن کارروائی کرنے کے اپنے فرائض میں مسلسل ناکام ہوتا ہے، تو پھر زندگی میں ایسے اوقات بھی آتے ہیں جب ہمیں خود ہی کارروائی پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔'

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے بھی کہا ہے کہ روس کو چاہیے کہ وہ بشار الاسد کے تئیں اپنی مستقل حمایت پر اچھی طرح سے غور و فکر کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن دوا خانوں میں ان متاثرین کا علاج چل رہا تھا ان پر بھی شامی فضائیہ نے بعد میں بمباری کی

مسٹر ٹیلرسن اگلے ہفتے ہی ماسکو کا دورہ کرنے والے ہیں جن کا کہنا تھا کہ 'ہمارے ذہن میں اس بارے میں کوئی بھی شک نہیں ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت ہی اس خوفناک حملے کے لیے ذمہ دار ہے۔'

شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت اس بات کی تردید کرتی ہے کہ اس نے کیامئی حملہ کیا ہے۔

برطانیہ میں انسانی حقوق کی تنظیم سئیرین آبزرویٹری فارہیومن رائٹس کے مطابق ادلب کے علاقے خان شیخون میں زہریلی گیس کے حملے میں 20 بچوں سمیت 72 افراد ہلاک ہوئے۔

منگل کو ہونے والے اس حملے کے متاثرین کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کراہ رہے ہیں اور ان کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن دوا خانوں میں ان متاثرین کا علاج چل رہا تھا ان پر بھی شامی فضائیہ نے بعد میں بمباری کی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں