طلبا کی صحافت سے سکول کی پرنسپل کی چھٹّی

تصویر کے کاپی رائٹ EMILY SMITH/PITTSBURG HIGH SCHOOL
Image caption سکول کے چھ طلبا پر مشتمل جس نیوز ٹیم نے یہ کام انجام دیا انھیں امریکی صحافی برادی کی جانب سے کافی سراہا جارہا ہے

امریکی ریاست کینسس میں سکول کے طلبا کی جانب سے نکالے جانے والے اخبار نے اپنی پرنسپل کی قابلیت پر سوالات اٹھائے اور بالآخر سچ سامنے آیا اور انھیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔

پٹسبرگ ہائی سکول سے شائع ہونے والے اخبار 'بوسٹر ریڈکس' نے اس معاملے کی تفتیش کی جس نے ابتدا میں اپنے سکول کی نئی پرنسپل کا ایک تعارفی پروفائل شروع کیا تھا۔

لیکن تین ہفتے بعد انھیں معلوم ہوا کہ ان کی پرنسپل ایمی رابرسٹن نے جس کالج سے تعلیم حاصل کی تھی اس کا امریکی محکمہ تعلیم سے ایکریڈیشن نہیں ہے۔

سکول کے چھ طلبا پر مشتمل جس نیوز ٹیم نے یہ کام انجام دیا انھیں امریکی صحافی برادی کی جانب سے کافی سراہا جارہا ہے۔

پٹسبرگ کے بورڈ آف ایجوکیشن نے چھ مارچ کو محترمہ رابرسٹن کو ملازمت پر رکھا تھا۔ منگل کی رات کو سکول کی انتظامیہ کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں ان کا استعفٰی منظور کیا گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ THE BOOSTER REDUX

سکول کے بورڈ نے ایک بیان یں کہا: 'جو مسائل کھڑے ہوئے ان کی روشنی میں ڈاکٹر رابرسٹن نے محسوس کیا کہ انھیں اپنے عہدے سے استعفی دینا ہی انتظامیہ کے بہترین مفاد میں ہے۔'

بوسٹر ریڈکس کی ایڈیٹر ٹرینا پال کا کہنا تھا: 'وہ ہمارے سکول کی سربراہ بننے جا رہی تھیں اور ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ وہ اس کی اہل ہوں اور ان کے پاس اس کی مناسب اسناد بھی ہوں۔ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا پتہ چلا کہ بیشتر لوگ اسے جائز اسناد تسلیم نہیں کرتے۔'

اخبار کے مطابق طلبا کے ساتھ ایک کانفرنس کال کے دوران محترمہ ایمی نے بعض سوالات کے نامکمل جوابات دیے، متنازع تاریخ کا حوالہ دیا اور ان کے جوابات تضادات سے بھی پر تھے۔

ایک 17 سالہ طالبہ کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے ان کی قابلیت اور صلاحیت پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

تفتیش کے دوران طلبا کو اس بات کا بھی پتہ چلا کہ دبئی کے جس نجی سکول میں محترمہ رابرسٹن پرنسپل کی ذمہ داریاں نبھا چکی تھیں اس سے متعلق غیر اطمینان بخش اطلاعات کی بنیاد پر وہاں کی مقامی حکومت نے اس کا لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔

طلبا کے اخبار بوسٹر ریڈکس نے پتہ لگایا کہ جس یونیورسٹی سے محترمہ رابرسٹن نے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی وہ امریکی محکمہ تعلیم سے منظور شدہ نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں