پیپسی کولا کے اشتہار پر امریکی برہم

تصویر کے کاپی رائٹ Pepsi
Image caption اشتہار میں پولیس والے کو پیپسی کا ڈبہ دینے سے سب خوش ہو جاتے ہیں

مشروبات بنانے والے بین الاقوامی کمپنی پیپسی نے متنازع بن جانے والے اپنے ایک اشتہار کو واپس لے لیا ہے۔ اس اشتہار پر یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ یہ امریکہ میں احتجاج کے حالیہ سلسلے کو غیر سنجیدہ رنگ دیتا ہے۔

اس اشتہار میں امریکی ٹی وی کی اداکارہ کینڈل جینر کو ایک فوٹو شوٹ کو چھوڑ کر ایک مظاہرے میں شامل ہوتے دکھایا گیا تھا۔ وہ مظاہرے کے آگے کھڑی پولیس کی قطار کی جانب بڑھتی ہیں اور ایک پولیس اہلکار کو پیپسی کا ڈبہ پکڑا دیتی ہیں جس پر سب لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور ماحول میں کشیدگی ایک دم سے دور ہو جاتی ہے۔

اس اشتہار کے دکھائی جانے کے منٹوں بعد لوگوں نے اس پر یہ تنقید کی کہ یہ پچھلے ڈھائی سال میں امریکہ میں پولیس کے سیاہ فام شہریوں کے ساتھ پُر تشدد سلوک اور اس کے نتیجے میں پولیس کے ہاتھوں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کی اہمیت اور سنگینی کو کم کر رہا ہے۔

اس مہم میں سرگرم تنظیم 'بلیک لائوز میٹر' کے کارکن ڈے رے مککیسن نے اشتہار پر طنز کرتے ہوئے کہا 'اگر میں پیپسی کا ڈبہ رکھتا تو شاید میں کبھی گرفتار نہ ہوتا۔ کون جانتا تھا یہ!' انہوں نے کہا ' پیپسی والوں، یہ اشتہار بکواس ہے، کچرہ ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بیٹون روژ کے احتجاج کے اس مشہور فوٹو سے بھی پیپسی کے اشتہار کو جوڑا گیا ہے

اشتہار میں احتجاج کا مقصد واضح نہیں ہے اور مظاہرین زیادہ تر جوان اور خوش شکل ہیں۔

یہ اشتہار منگل کی شام کو یو ٹیوب پر چلا ، لیکن چوبیس گھنٹوں کے اندر اس پر رد عمل کے بعد پییسی سے اس کو ہٹا دیا تھا۔

پیپسی کا کہنا تھا 'ہم امن، اتحاد اور تفہیم کا پیغام دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن ہم اس میں ناکام رہے اور اس پر ہم معذرت خواہ ہیں۔ ہمارا مقصد کسی بھی مہم یا معاملے کی سنجیدگی یا اہمیت کو کم کرنا نہیں تھا۔ ہم اس اشتہار کو اب ہٹا رہے ہیں، اور اس کی تشہیر روک رہے ہیں۔'