غزہ میں اسرائیل کے ساتھ ’تعاون‘ کے الزام میں تین افراد کو پھانسی دے دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حماس سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل سے تعاون کرنے کے الزام میں تین فلسطینیوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

بیان کے مطابق تین فلسطینیوں کو جن کی عمریں 32، 42 اور 55 سال ہیں عدالت کی جانب سے بغاوت اور غیر ملکی پارٹیوں کے ساتھ مل کر سازشیں کرنے کا جرم ثابت ہونے پر یہ سزا دی گئی۔

ان افراد کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ انھیں ایک سال سے چھ ماہ کے عرصے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ پھانسیاں حماس کی جانب سے گذشتہ ماہ ایک اعلیٰ اہلکار میزان فقھا کے قتل کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد دی گئی ہیں۔ اعلی اہلکار کے قتل کا الزام اسرائیل اور مقام معاونوں پر لگایا جا رہا تھا۔

ہیومن رائٹس واچ نے جمعرات کو دی جانے والی ان پھانسیوں کو ’گھناؤنا عمل‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’حماس نے اس عمل کے ذریعے اپنی طاقت نہیں بلکہ کمزوری ظاہر کی ہے‘۔

یاد رہے کہ 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ کے دوران اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔ بعد میں 2005 میں اسرائیل نے اپنی افواج اور کوئی سات ہزار کے قریب آباد کاروں کو اس علاقے سے واپس بلا لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

2006 میں حماس نے فلسطینی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔

تب سے حماس کی جانب سے چلائی جانے والی انتظامیہ 22 افراد کو پھانسیاں دے چکی ہیں جن میں سے حالیہ پھانسی مئی 2016 میں دی گئی۔

اس کے علاوہ حماس 2014 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران کوئی 23 افراد کو بنا کسی مقدمات کے بھی ہلاک کر چکی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں