سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں روس کی امریکہ کو ’سخت نتائج‘ کی تنبیہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
شامی فوجی اڈے پر امریکی میزائل حملے کے مناظر

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں روس نے امریکہ کو شام پر دوبارہ میزائل حملہ کرنے کی صورت میں سخت نتائج کی تنبیہ کی ہے جبکہ ریڈ کراس نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شام میں فوجی کارروائی بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتی ہے۔

روس کے نائب سفیر ولادمیر سفکرونوف کا کہنا تھا کہ ’آپ کو سخت نتائج کے لیے تیار رہنا ہوگا اور اس کی تمام ذمہ داری ان لوگوں کے کندھوں پر ہوں گی جنھوں نے یہ حملے کیے۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ وہ سخت نتائج کیا ہوں گے، ولادمیر سفکرونوف نے کہا: ’لیبیا کو دیکھیں، عراق کو دیکھیں۔‘

امریکی حملہ: برطانیہ اور ترکی کی حمایت، ایران کی مذمت

شام میں کیمیائی حملہ انسانیت کی توہین ہے: ٹرمپ

شام میں مبینہ کیمیائی حملہ، 'کم از کم 58 ہلاک'

واضح رہے کہ امریکہ نے شام میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں شامی فوج کی جانب سے مشتبہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی اڈے پر میزائلوں سے جمعہ کی صبح ٹاماہاک کروز میزائل سے حملے کیے جبکہ روس نے کہا کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکی حملوں کی تیاری پہلے ہی سے کی گئی تھی۔

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم میں بحری بیڑے سے 59 ٹام ہاک کروز میزائلوں سے شام کے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شیرت فضائی اڈے پر امریکی میزائل حملے کے بعد شام کے فضائی دفاع کو مضبوط کیا جائے گا۔ ترجمان اگور کوناشینکوو نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا 'شام کے انتہائی حساس مقامات اور اڈوں کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف اقدامت لیے جائیں گے تاکہ ان کی قابلیت اور صلاحیت میں بہتری آ سکے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس کے نائب سفیر ولادمیر سفکرونوف کا کہنا تھا کہ 'آپ کو منفی نتائج کے لیے تیار رہنا ہوگا'

ادھر انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شام میں فوجی کارروائی بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتی ہے۔

عالمی ریڈ کراس کی ترجمان نے کہا ’ایک ملک کی طرف سے دوسرے ملک کی رضا مندی کے بغیر فوجی کارروائی انٹرنیشنل آرمڈ کانفلکٹ یعنی بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتی ہے۔

’اطلاعات کے مطابق امریکہ نے شامی فوجی تنصیب پر حملہ کیا اور یہ بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتا ہے۔‘ امریکہ نے شام میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں شامی فوج کی جانب سے مشتبہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی اڈے پر میزائلوں سے حملے کیے جبکہ روس نے کہا کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکی حملوں کی تیاری پہلے ہی سے کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس کی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ شام میں روس کی فوجی اڈے محفوظ ہیں

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم میں بحری بیڑے سے 59 ٹام ہاک کروز میزائلوں سے شام کے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

مقامی حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوجی اڈہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے جبکہ شامی فوج کے مطابق امریکی حملوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے اس سکیورٹی فورس کو نشانہ بنایا ہے جس کو شامی صدر بشار الاسد خود کمانڈ کرتے ہیں۔

ان حملوں کے بعد بشار الاسد کے حامی روس نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے ان حملوں کو 'ایک خود مختار ملک کے خلاف جارحیت' قرار دیا ۔

روس کے دفتر خارجہ نے کہا ’یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکی میزائل حملوں کی تیاری پہلے ہی سے کی گئی تھی۔ کسی بھی ماہر کے لیے یہ واضح ہے کہ واشنگٹن نے حملوں کا فیصلہ ادلیب کے حملے سے پہلے کیا تھا اور ادلیب کا واقعہ بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق روسی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ روس امریکہ کے ساتھ شام میں فضائی تحفظ کے معاہدے کو معطل کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کیا گیا تھا تاکہ دونوں ملکوں کی فضائیہ شام کی حدود میں ایک دوسرے کو نشانہ نہ بنائیں۔

روس کی وزارت دفاع کے ترجمان اگور کونشینکوف نے کہا ہے کہ شام میں روس کی فوجی اڈے محفوظ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایس 400، ایس 300 میزائل سسٹم اور پینٹسر ایس ون انٹی کرافٹ سسٹم کے شام میں روسی اڈوں کے فضائی دفاع کرتے ہوئے ان کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہی اس شامی فضائی بیس پر حملے کا حکم دیا تھا جہاں سے منگل کو شامی فضائیہ نے حملے کیے تھے۔ امریکی صدر نے اس موقع پر 'تمام مہذب ممالک' سے شام میں تنازعے کو ختم کرنے میں مدد کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

ادلیب کے علاقے خان شیخون میں مبینہ زہریلی گیس کے حملے میں اب تک 27 بچوں سمیت کم سے کم 72 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے کروز میزائل حملوں کا شامی حزب اختلاف کے گروہ سیریئن نیشنل کولیشن نے خیر مقدم کیا ہے۔

اتحاد کے ترجمان احمد رمضان نے خبر رساں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم مزید حملوں کی امید کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ محض ایک آغاز ہے۔'

امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے شام پر فضائی حملے کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کی شامی حکومت نے تردید کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ جس ایئر بیس کو نشانہ بنایا گيا اس کا براہ راست تعلق خوفناک کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے ہی تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ترجمان کا کہنا تھا: 'ہم نے بڑے اعتماد سے اس بات کا جائزہ لیا کہ اس ہفتے کے اوائل میں کیمیائی حملہ اسد حکومت کی کمان میں اسی مقام سے فضائیہ کی مدد سے کیا گيا تھا۔'

ترجمان کا مزید کہنا تھا: 'ہم نے اسی اعتماد کے ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ اسد کی حکومت نے ہی اعصاب شکن کیمیائی مادے، جس میں سیرین شامل تھی، حملے کے لیے استعمال کیا۔'

ادھر شام کے ایک سرکاری ٹی وی پر اس بارے میں ایک بیان جاری کیا گيا کہ 'امریکی جارح' نے شام کی ایک فوجی اڈے پر کئی ایک میزائلوں سے حملہ کیا ہے تاہم اس کے علاوہ کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ شام کے مستقبل میں بشار الاسد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام میں منگل کو مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کے لیے سنجیدہ جواب کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں