شام پر امریکی حملہ: برطانیہ اور ترکی کی حمایت، ایران کی مذمت

میزائل حملہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ شام میں امریکی میزائل حملے کی ’مکمل حمایت‘ کرتا ہے اور اس نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے بشارالاسد کی حکومت پر مزید دباؤ ڈالے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ شام میں جس ایئر بیس کو نشانہ بنایا گيا اس کا براہ راست تعلق کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے تھا۔

اس حملے کے ردعمل میں برطانوی سیکریٹری دفاع مائیکل فیلن کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو اس میں حصہ لینے کے لیے نہیں کہا گیا ہے تاہم یہ حملہ 'مکمل طور پر مناسب' تھا۔

دوسری جانب شام پر امریکی حملے کے بعد ڈالر اور بازار حصص پر منفی اثر پڑا ہے جبکہ جاپانی کرنسی ین اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

حملے کے بعد لڑائی چھڑنے اور روس اور ایران کے ساتھ ممکنہ محاذ آرائی کے خوف کے پیش نظر سرمایہ کاروں میں اپنے اثاثوں محفوظ کرنے کا رجحان ہے۔

امریکی ڈالر میں چھ فیصد کی گراوٹ درج کی گئی جبکہ سونے اور تیل قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ لیکن جب امریکی حکام نے حملوں سے متعلق یہ کہا کہ اس میں شدت نہیں لائی جائے گی تو مارکیٹ میں ابتدائی گھبراہٹ کے بعد استحکام آیا۔

عالمی ردِ عمل

اس دوران امریکی حملے کے تعلق سے عالمی طور پر رد عمل سامنے آیا ہے جس میں بعض ممالک نے امریکی حملے کو درست قرار دیا تو بعض نے اس کی مذمت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حملہ جارحیت ہے: روس

روس کے صدر ولاد میر پوتن کے ترجمان دیمتری پیسکوؤف نے شام کی شائرات ایئر بیس پر حملے کو 'ایک خود مختار ملک کے خلاف جارحیت قرار دیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ صدر پوتن اس حملے کو عراق میں امریکی کارروائی میں ہونے والی شہریوں کی ہلاکتوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں اور ’اس سے امریکہ اور روس کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچختا ہے۔‘

روسی پارلیمان کے ایوان بالا میں دفاعی اور سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ وکٹر وزیروف کا کہنا تھا کہ روس اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل کا فوری اجلاس طلب کرنے مطالبہ کرے گا۔

روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’اس (حملے) کو اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک کے خلاف امریکی جارحیت بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل ایک خصوصی ہاٹ لائن کے ذریعے روسی حکام کو اس حملے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔

حملے کی پوری طرح سے حمایت کرتے ہیں: نتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کی پوری طرح سے حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’صدر ٹرمپ نے الفاظ اور ایکشن سے ایک مضبوط اور واضح پیغام دیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال یا ان کے پھیلاؤ کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔‘

شام اور خطّے میں حالات مزید پیچیدہ ہوں گے: ایران

ایران نے امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے شدت پسندوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔

ایرانی نیوز ایجنسی آئی ایس این اے نے وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کے اقدامات سے شام اور خطّے میں حالات کو مزید پیچیدہ کر دیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران اس یکطرفہ حملے کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ ان حملوں سے شام میں دہشت گردوں کو پروان ملے گا۔‘

مثبت پہل لیکن عالمی برادری کو ثابت قدم رہنے کی ضرورت: ترکی

ترکی نے شام کے خلاف امریکی حملے کو مثبت پہلو قرار دیا اور کہا ہے کہ عالمی برادری کو شامی حکومت کی بربریت کے خلاف اپنے موقف کو مستقل برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان قرت المعاون نے ترکی میں فاکس ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر بشار الاسد کو عالمی سطح پر پوری طرح سے سزا دینا چاہیے اور شام میں امن کے عمل کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’شام کے فضائی اڈے پر امریکی حملہ خوش آئند پیشرفت ہے اور ترکی ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرے گا جس سے شامی حکومت کا احتساب ہو سکے۔‘

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ترجمان نے ’شام کے اوپر نو فلائی زون اور سیف زون کے قیام‘ کا مطالبہ کیا۔

کوئی روسی زخمی نہیں ہوا: روس

امریکی ٹی وی چینل سی این این کے مطابق جب شامی ایئر بیس پر امریکہ نے حملہ کیا تو اس وقت وہاں پر روسی عملے کے کچھ لوگ بھی موجود تھے لیکن وہ کیا کر رہے تھے یہ واضح نہیں ہے۔

اس دوران روس نے کہا ہے کہ اس حملے میں اس کے عملے کا کوئی بھی شخص متاثر نہیں ہوا ہے۔ روسی پارلیمان کے ایک رکن دیمتری سیبلن، جو ملٹری کی ایک کمٹی کے سربراہ بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ ان کے اپنے ذرائع سے انھیں پتہ چلا ہے کہ اس حملے میں کوئی روسی شہری متاثر نہیں ہوا ہے۔

شام میں مظالم کے خاتمے کے لیے کوششیں کریں گے: یورپی یونین

یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے ٹویٹ کے ذریعے شام پر کیے جانے والے امریکی حملے پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’امریکی حملہ ظاہر کرتا ہے کہ شامی حکومت کے ہولناک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف ہمت کی ضرورت ہے اور یورپی یونین امریکہ کے ساتھ مل کر شام میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے کے لیے اپنی پوری کوشش کرے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک کی ٹویٹ

اس حملے کی تمام ذمہ داری صدر اسد پر عائد ہوتی ہے: فرانس اور جرمنی

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل اور فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے امریکی میزائل حملے کے بارے میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ’اس حملے کی ساری ذمہ داری شام کے صدر بشار الاسد پر عائد ہوتی ہے۔صدر اسد نے اپنی عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے بہت بڑا جرم کیا ہے اور جرمنی اور فرانس 2013 میں بھی شام پر غوطہ کے سانحے کے بعد سے پابندیاں لگانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔‘

ضرورت ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے: چین

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ’اب اس بات کی ضرورت ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے۔ ہم کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مکمل خلاف ہیں چاہے وہ کوئی بھی ملک، ادارہ یا انفرادی حیثیت میں کوئی شخص کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کرے۔‘

یہ ایک سوچ سمجھ کر کیے جانے والا حملہ تھا: آسٹریلیا

آسٹریلیا کہ وزیر اعظم مائیکل ٹرن بل نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آسٹریلوی حکومت امریکی حکومت کے اس قدم کی پرزور حمایت کرتی ہے۔ یہ ایک سوچ سمجھ کر کیے جانے والا حملہ تھا اور اس سے صدر اسد کی حکومت کو ایک واضح پیغام ملا ہے۔‘

امید ہے کہ اب شامی بحران کا سیاسی حل ڈھونڈنے کا عمل تیز ہو جائے گا: اٹلی

اٹلی کے وزیر اعظم پاؤلو جینٹ لونی نے کہا کہ ’امریکہ حملہ شامی حکومت کے جنگی جرائم کے خلاف ایک پرزور جواب تھا۔ اس حملے کے بعد امید کی جاتی ہے کہ شامی بحران کا سیاسی حل نکالنے کا عمل تیز ہو جائےگا۔‘

مہذب ممالک اب بربریت کے سامنے لاتعلق نہیں رہ سکتے: پولینڈ

پولینڈ کے صدر انجے دودھا نے بھی اپنے بیان میں امریکی حملے کی حمایت کی ہے۔ انھوں نےکہا ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شام کے فضائی اڈے پر حملہ شامی صدر اسد کی حکومت کے اپنے شہریوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا رد عمل ہے اور مہذب ممالک اس ہولناک بربریت کے سامنے لاتعلقی اختیار نہیں کر سکتے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں