بیوی پر تشدد کرنے والے کرکٹر کو 18 ماہ قید کی سزا

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Pat Isaac / Cavendish
Image caption مصطفی بشیر نے بیوی کو بیٹ سے قتل کرنے کی دھمکی دی تھی

انگلینڈ کے شہر مانچسٹر کے ایک شہری کو اپنی بیوی پر کرکٹ کے بلے سے حملہ کرنے اور زبردستی بلیچ پلانے کے الزام میں عدالت نے جیل کی سزا سنا دی ہے۔

پچھلے مہینے 34 سالہ مصطفی بشیر کے وکلا نے موقف پیش کیا تھا کہ اگر عدالت نے انھیں سزائے قید دی تو ان کا کرکٹ کریئر ختم ہو جائے گا اور لیسٹر شائر کرکٹ کلب کی طرف سے دیا جانے والا کنٹریکٹ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ تاہم انسانی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے جج رچرڈ مارشل کے معطل سزا کے فیصلے کے بعد شدید ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔

کرکٹر کا بیوی پر تشدد، سزا پر نظر ثانی ہوگی

مانچسٹر کراؤن کورٹ کے جج رچرڈ مانسل نے پچھلے مہینے کیی جانے والے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد کہا کہ عدالت کو ’بنیادی طور پر گمراہ‘ کیا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں انھوں نے مصطفی بشیر کو 18 ماہ جیل قید کی سزا سنائی۔

اولڈہیم اور بولٹن کی جانب سے کرکٹ کھیلنے والے مصطفیٰ بشیر نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انھوں نے اپنے وکیل کو کہا تھا کہ وہ لیسٹر شائر سے معاہدہ کرنے والے ہیں۔ انھوں نے دعوی کیا کہ وہ 'سخت ذہنی کشمکش اور جذبات سے مغلوب تھے' اور اپنے وکیل کی بات پر غور نہیں کر رہے تھے جس کی بنا پر کئی غلط فہمیاں ہو گئی تھیں۔

جج رچرڈ مانسل مصطفی بشیر کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت کے سامنے آپ نے واضح طور پر دعویٰ کیا تھا کہ آپ کا کرکٹ کا معاہدہ ہے۔‘

پچھلی سماعت کے بعد لیسٹر شائر کرکٹ کونسل نے مصطفی بشیر کے کیس کی تفصیلات میڈیا میں دیکھیں تو انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ انھوں نے ان کو کسی بھی قسم کے کنٹریکٹ کی پیشکش کی تھی اور الزام لگایا کہ یہ ’مصطفیٰ بشیر کے ذہن کی اختراع ہے‘ تاکہ وہ جیل جانے سے بچ جائیں۔

اسی بارے میں