یورپ میں آخری شورش کا خاتمہ، باسک خطے کے عسکری گروہ ایٹا نے ہتھیار پھینک دیے

باسک تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانسیسی وزیر داخلہ متھیاس فیکل نے اسے ایک 'بڑا قدم' قرار دیا ہے

یورپی خطے باسک کے عسکری گروہ ایٹا نے اپنے ہتھیار پھینکنے کا عمل کا آغاز کر دیا ہے جس سے یورپ میں جاری آخری شورش کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

فرانس کے جنوبی شہر بیون میں منعقدہ ایک تقریب میں اسلحے اور اس کے مقامات کی فہرست عدالتی حکام کے حوالے کی گئی ہے۔

فرانسیسی وزیر داخلہ متھیاس فیکل نے اسے ایک ’بڑا قدم‘ قرار دیا ہے۔

سپین اور فرانس کے درمیان پھیلے باسک کا خطہ 40 سال سے آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا اور اس دوران ایٹا نے 800 سے زائد افراد کو ہلاک کیا۔

سنہ 2011 میں اس عسکری گروہ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا تاہم وہ غیرمسلح نہیں ہوئے تھے۔

فرانسیسی وزیرداخلہ کے مطابق مہیا کی گئی فہرست میں آٹھ مقامات شامل ہیں جس کو محفوظ بنانے کے لیے پولیس آپریشن کر رہی ہے۔

ایٹا کیا ہے؟

یہ عسکری گروہ 50 سال قبل ہسپانوی آمر جنرل فرانکو کے دور میں وجود میں آیا تھا۔

اس کا بنیادی مقصد جنوب مغربی فرانس اور شمالی سپین کے علاقوں پر مشتمل ایک آزاد باسک ریاست کا قیام تھا۔

سنہ 1968 میں اس گروہ کی جانب سے پہلے قتل کی خبر منظر عام پر آئی تھی جب باسک کے شہر سان سیبسٹین میں خفیہ پولیس کے سربراہ کو قتل کیا گیا تھا۔

یورپی یونین اس گروہ کا شمار دہشت گردہ تنظیموں میں کرتی ہے جبکہ فرانس اور سپین نے ایٹا کے ساتھ مذاکرات سے انکار کر دیا تھا۔

انٹرنیشنل ویریفیکیشن کمیشن کے چیئرمین رام منکلنگم نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اسلحے سے دستبردار ہونے کے عمل سے باسک خطے میں امن کا استحکام ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں