مصر: قبطی گرجا گھروں میں دھماکے، کم از کم 36 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مصر میں پام سنڈے کے موقع پر دو قبطی گرجا گھروں میں دھماکوں میں کم از کم 36 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شہر طنطا میں سینٹ جارج قبطی گرجا گھر میں ہونے والے دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ بعد میں شہر سکندریہ میں واقع سینٹ مارک قبطی گرجا گھر میں دھماکے کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے۔

قبطی مسیحیوں اور سینٹ مارک گرجا گھر کے سربراہ پادری توادروس دوئم بھی گرجا گھر میں جاری مذہبی تقریب میں موجود تھے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق پادری توادروس کو نقصان نہیں پہنچا۔ ان کے سیکریٹری نے کہا کہ گرجا گھر پر حملہ ایک خود کش بمبار نے کیا تھا۔

طنطا میں ہونے والے پہلے دھماکے کے بعد صوبے کے گورنر احمد دیف نے سرکاری چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یا تو کسی نے بم نصب کیا تھا یا کسی نے خود کو بمب سے اڑا لیا۔'

مصر کی وزارت داخلہ کے ترجمان جنرل طارق عطیہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طنطا میں دھماکہ گرجا گھر کے مرکزی حصے کے نزدیک ہوا تھا۔

دھماکے کے بعد تفتیشی ٹیموں نے مزید دھماکہ خیز مواد کی تلاش شروع کر دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ابتدائی خبروں کے مطابق یہ بم دھماکے موقع کی مناسبت دیکھ کر کیے گئے تھے جب گرجا گھروں میں بڑی تعداد میں لوگ پام سنڈے کا تہوار منانے کے لیے موجود تھے۔

کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ فرانسس جو اس مہینے مصر کا دورہ کریں گے، انھوں نے ان دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔

حالیہ برسوں میں قبطی مسیحیوں پر حملے بڑھ گئے ہیں جب سے 2013 میں فوج نے منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹ دیا اور اسلام پسندوں کے خلاف کاروائیاں شروع کر دی تھی۔

اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے سابق صدر محمد مرسی کے حمایتی کہتے ہیں کہ مسیحیوں نے صدر مرسی کے تختہ الٹنے کی سازش کی حمایت کی تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں قاہرہ میں ایک چرچ میں ہونے والے دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ فروری میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجنوؤں نے قبطی مسیحی برادری، جو کہ مصر کی دس فیصد آبادی پر مشتمل ہے، کو خبردار کیا تھا کہ انھیں مزید حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات