روس کو اپنی فوجی طاقت بڑھانے کی ضرورت کیوں درپیش ہے؟

روس تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روس کے صدر ولادی میر پوتن کی جانب سے ایک سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردہ حکم نامے کے مطابق روسی مسلح افواج کی تعداد بڑھا کر 19 لاکھ کر دی جائے گی۔

جاری کردہ دستاویز کے مطابق یکم جولائی 2017 سے روسی مسلح افواج کی تعداد 19 لاکھ تین ہزار 51 ہوجائے گی جس میں دس لاکھ 13 ہزار چھ سو 28 حاضر سروس فوجی شامل ہوں گے۔

مجموعی طور پر مسلح افواج کی تعداد میں 19 ہزار کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس حکم نامے پر 28 مارچ کو دستخط کیے گئے اور اسی دن سے یہ نافذ العمل ہے۔

قبل ازیں روس کے خبررساں ادارے ریگنم کے مطابق روسی مسلح افراد میں اضافہ آٹھ جولائی 2016 کو ریاست کے سربراہ کے حکم پر کیا گیا تھا اور ان کی تعداد 18 لاکھ 85 ہزار تین سو 71 تھی۔

اگر ان اعداد و شمار پر یقین کر لیا جائے تو روس فوج دنیا کی پانچویں بڑی فوج بنتی ہے۔ فوجیوں کی تعداد کے لحاظ سے چین پہلے نمبر پر ہے (جس کے 20 لاکھ سے زائد فوجی ہیں) اور اس کے بعد امریکہ، انڈیا اور شمالی کوریا کا نمبر ہے۔

ملک کی حالیہ معاشی صورتحال اور آبادی کے تناسب کے پیش نظر فوج میں اضافے کا فیصلہ کس قدر حقیقت پسندانہ ہے؟

روسی دفاعی تجزیہ کار الیگزینڈر پیرنڈژییف نے روسی نیوز ویب سائٹسوابوڈنایا پریسا کو بتایا کہ ’میرے خیال میں صدر اور سپریم کمانڈر ان چیف کے لیے مسلح افواج کی تعداد کا معاملہ آج سب سے زیادہ اہم ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں تمام تر باتوں کے باوجود فوج میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم نے فوج میں جبری بھرتیوں سے بالکل کنارہ کشی اختیار نہیں کریں گے۔ صرف کنٹرکٹ فوجیوں کے ساتھ 20 لاکھ کے قریب فوجیوں کی تعداد برقرار رکھنا غیر متوقع ہے۔‘

روس کو اپنی مسلح افواج میں اضافے کی ضرورت کیوں درپیش ہے؟ اس سوال کے جواب میں الیگزینڈر پیرنڈژییف کہتے ہیں کہ ’ہم قطب شمالی میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جنوب مغربی سرحدوں میں یوکرین کے تنازعے میں نیٹو کی کھلے عام مداخلت کے پیش نظر حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ اس کے جنوبی کاکیشیا اور قفقاز کی صورتحال کے تناظر میں جنوبی سیکٹرز پر بھی ہماری توجہ مرکوز ہے۔ اب یوکرین کے ساتھ سرحدوں پر اضافی سب ڈویژنوں کے قیام کا کام جاری ہے۔‘

’ہمیں اضافی تربیت یافتہ فوجیوں کی ضرورت ہے۔ دوسری صورت میں ہمارے ’پارٹنرز‘ جو آج امن اور جمہوریت کی بات کر رہے ہیں، کل ہماری کمزوری دیکھتے ہوئے ہم سے طاقتور پوزیشن میں بات کریں گے۔ ہم اپنی سرحدوں کے گرد بہانہ بازی سے بڑھتی ہوئی فوجیں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں‌ تناؤ بڑھ رہا ہے، اور وسطی ایشیا میں بھی عدم استحکام ہے۔ ہم اس کا ردعمل ظاہر کرنا ہے جس میں فوج میں اضافہ ضروری ہے خواہ یہ معمولی اضافہ ہی کیوں نہ ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انسٹی ٹیوٹ فار پولیٹکل اینڈ ملٹری انیلیسس کے شعبہ تجزیات کے سربراہ الیگزینڈر خرامچیکن کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک میں فوج کی تعداد میں تبدیلی کے لیے مخصوص حالات ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’اس معاملے میں حاضر سروس فوجیوں کی تعداد میں 13 ہزار کے اضافے سے بہت کم تبدیلی آئے گی، جدید دور میں بڑی فوج کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ فوجی سازوسامان کا معیار اور مقدار اہم ہوتا ہے۔ لیکن یہ ساز و سامان کسی نے استعمال بھی کرنا ہوتا ہے لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فوجیوں کی تعداد بالکل اہم نہیں ہے۔‘

روسی خبررساں ادارے تاس سے وابستہ دفاعی تجزیہ کار اور کرنل ریٹائرڈ وکٹر لٹووکن اس حوالے سے کہتے ہیں: 'نئی بیرکوں کی تعمیر اور نئے فوجی یونٹس کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ میرا نہیں خیال کہ آج روسی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔ اور صدر کی جانب سے حکم نامے میں ہم جو سن رہے ہیں یہ ضروری نہیں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ یہ ڈاکٹر ہوسکتے ہیں یا ٹیکنیکل پیشہ ور افراد، ڈرائیور وغیرہ۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روسی خبررساں ادارے تاس سے وابستہ دفاعی تجزیہ کار اور کرنل ریٹائرڈ وکٹر لٹووکن اس حوالے سے کہتے ہیں: ’نئی بیرکوں کی تعمیر اور نئے فوجی یونٹس کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ میرا نہیں خیال کہ آج روسی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔ اور صدر کی جانب سے حکم نامے میں ہم جو سن رہے ہیں یہ ضروری نہیں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ یہ ڈاکٹر ہوسکتے ہیں یا ٹیکنیکل پیشہ ور افراد، ڈرائیور وغیرہ۔‘

وکٹر لٹووکن کے مطابق ’رقبے کے اعتبار سے کوئی بھی فوج، بشمول چین کے، اس کے لیے بہت چھوٹی ہے۔ چنانچہ ہمیں اپنی فوج کے تکینیکی سازو سامان پر زور دینے کے ضرورت ہے۔ میرے خیال میں ملک کی معاشی حالت اور دیگر ذرائع کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری فوج کی تعداد اب نہایت موافق ہے۔ ہمارے پاس اضافی فوجی ہیں، جو ضرورت کے وقت بلایا جاسکتا ہے۔ ان افراد کو جنگ کی صورت میں ’مسلح‘ کیا جاسکتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں