دنیا بھر میں سزائے موت میں '37 فیصد کمی'

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حقوقِ انسانی کے عالمی گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سال 2015 کے مقابلے میں سال 2016 میں دنیا بھر میں سزائے موت کی تعداد میں 37 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

سال 2016 میں 23 ممالک نے سزائے موت دیں جبکہ سال 2015 میں یہ تعداد 25 تھی۔ تاہم سال 2015 میں 1634 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی جبکہ سال 2016 میں یہ تعداد کم ہو کر 1032 ہو گئی۔

پاکستان میں سزائے موت کے پسِ پردہ انسانی المیہ

سزائے موت کے خلاف لاہور میں احتجاجی مظاہرہ

آرکنساس میں سزائے موت پر عملدرآمد دوبارہ شروع

اس کمی کا بڑا سبب پاکستان اور ایران میں سزائے موت میں کمی بنی ہے۔

ایمنسٹی کے اندازے کے مطابق چین میں دی جانے والی سزائے موت دنیا کے تمام ممالک میں دی جانے والی سزائے موت کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے لیکن غیر معتبر اعداد و شمار کی بنا پر اس فہرست میں صرف ان واقعات کو شامل کیا گیا ہے جن کی دیگر ذرائع سے تصدیق ہو سکی ہے۔

سزائے موت دینے والے ممالک کی درجہ بندی میں 11 سالوں بعد امریکہ پہلی دفعہ پہلے پانچ ممالک میںش شامل نہیں ہے۔ گذشتہ سال کے مقابلے میں کم سزائے موت کے باوجود درجہ بندی میں پہلے نمبر پر ایران اور دوسرے پر پاکستان جب کہ ان کے بعد چین، سعودی عرب اور عراق کا نمبر ہے۔

پاکستان میں سال 2015 میں 326 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی جبکہ یہ تعداد 2016 میں کم ہو کر 87 ہوگئی۔ 2015 میں اس بڑی تعداد کی وجہ ملک میں 2008 سے سزائے موت پر لگائی ہوئی پابندی کا ختم ہونا تھا جو کہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے نتیجے میں ہٹائی گئی۔ اس حملے میں تقریباً 150 طلبہ کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں سال 2015 میں 326 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی جبکہ یہ تعداد 2016 میں گھٹ کر 87 ہوگئی

جنوری 2015 میں پاکستان نے ملٹری کورٹس کے قیام کے منظوری دی جس میں دہشت گردی کے الزام میں ملوث شہریوں پر مقدموں کی سماعت کی جاتی تھی۔

دوسری جانب ایران میں گذشتہ سال 567 افراد کو سزائے موت دی گئی جبکہ سال 2015 میں یہ تعداد 977 تھی۔

ایمنٹسی کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ 2015 میں اتنی بڑی تعداد کیوں تھی لیکن ان میں سے اکثریت ان افراد کی تھی جو کہ منشیات سے متعلق مقدمات میں ملوث تھے۔

ایران میں دی جانی والی سزائے موت 2016 میں دی جانے والی سزائے موت کی مجموعی تعداد کا 55 فیصد بنتی ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ کہ ایران میں سزائے موت پانے والوں میں سے دو افراد ایسے تھے جن کی جرم سرزد کرنے کے وقت عمر 18 برس سے کم تھی اور انھیں سزائے موت دینا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ادھر امریکہ میں سال 1991 کے بعد سزائے موت کی تعداد میں سب سے بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن ایمنسٹی نے کہا کہ اس سال ریاست آرکنسا میں حیران کن تعداد میں قیدیوں کو سزائے موت دی جائے گی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حالات کتنی جلدی بدل سکتے ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق دنیا کے 104 ممالک میں سزائے موت کو ختم کیا جا چکا ہے۔ 1997 میں یہ تعداد 64 تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں