شمالی کوریا کا امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی پر سخت ردعمل

امریکی بحری بیڑے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سٹرائیک گروپ میں طیارہ بردار جہاز کے علاوہ دو گائیڈڈ میزائل شکن اور ایک گائیڈڈ میزائل لانچ کرنے والا جہاز شامل ہے۔

شمالی کوریا نے امریکی بحری بیڑے کی کوریائی خطے میں تعیناتی پر کہا ہے کہ وہ طاقتور ہتھیاروں کی مدد سے اپنا دفاع کرے گا۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے کے مطابق ملک کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’چڑھائی کرنے کے لیے لاپرواہی سے کیے گئے اقدامات سنگین مرحلے میں پہنچ چکے ہیں‘۔

٭ امریکہ کا کوریائی خطے میں بحری بیڑے کی تعیناتی کا حکم

٭ شمالی کوریا کا مسئلہ تنہا ہی حل کرلیں گے: ٹرمپ

٭ شمالی کوریا سے خطرہ، جنوبی کوریا میں امریکی دفاعی نظام

وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق'ہم امریکہ کو اس کے اشتعال انگیز اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تباہ کن نتائج پر مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیں گے اور کوریا امریکہ کی خواہش پر مبنی کسی بھی جنگی ماحول کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔'

پیر کو کوریائی خطے کےلیے چین کے ایلچی کی جنونی کوریا کے وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی۔

کوریائی حکام نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ دونوں ممالک نے شمالی کوریا کی جانب سے مزید میزائل تجربات کرنے کی صورت میں اس کے خلاف مزید سخت اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا ہے۔

اس سے پہلے اتوار کو شمالی کوریا کے میزائل پروگرام پر خدشات میں اضافے کے باعث امریکی فوج نے بحریہ کے سٹرائیک گروپ کو کوریائی خطے کے جانب پیش رفت کا حکم جاری کیا تھا۔

امریکی پیسفک کمانڈ نے اس تعیناتی کو خطے میں تیار رہنے کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری اسلحے کے خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ تنہا ہی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی پیسفک کمانڈ کے ترجمان ڈیو بنہیم نے کہا تھا کہ 'اپنے لاپرواہی، غیر ذمہ دارانہ اور میزائل کے تجربوں سے غیر مستحکم کرنے اور جوہری اسلحے کی صلاحیت کی خواہشات کے سبب خطے میں سب سے بڑا خطرہ شمالی کوریا ہے۔'

اس سٹرائیک گروپ میں نیمٹز درجے کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس کارل ونسن کے علاوہ دو گائیڈڈ میزائل شکن اور ایک گائیڈڈ میزائل لانچ کرنے والا جہاز شامل ہے۔

حملے کی زبردست قوت رکھنے والے اس جنگی بیڑے میں بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شمالی کوریا نے حال میں کئی میزائلوں کا تجربہ کیا ہے جس سے خطے میں امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے

اس بیڑے کو پہلے آسٹریلیا پر لنگر انداز ہونا تھا لیکن پھر سنگاپور سے اس کا رخ مغربی بحرالکاہل کی جانب موڑ دیا گیا۔ جہاں اس نے حال ہی میں جنوبی کوریا کی بحریہ کے ساتھ جنگی مشق کی ہے۔

شمالی کوریا نے حال ہی میں کئی جوہری تجربات کیے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں یہ جوہری اسلحہ بنا سکتا جس میں امریکہ تک مار کرنے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔

گذشتہ بدھ کو شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سنپو سے جاپان کے سمندر میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔

اس تجربے کی جاپان اور جنوبی کوریا نے مذمت کی تھی اور یہ تجربہ چینی صدر شی جن پنگ کی امریکی صدر سے ملاقات کے ایک روز قبل ہوا تھا۔

اس کے بعد دونوں رہنماؤں نے شمالی کوریا کے میزائل پروگرام پر لگام لگانے کے طریقے پر بات کی تھی۔

چین کو اپنے تاریخی حلیف پیونگ یانگ کو تنہا کرنے میں ہچکچاہٹ ہے کیونکہ اسے اس بات کا خوف ہے کہ اگر شمالی کوریا کا سقوط ہوتا ہے تو چین میں پناہ گزینوں کا بحران پیدا ہو جائے گا اور امریکی فوج اس کے دروازے پر آ بیٹھے گی۔

اسی بارے میں