اقوام متحدہ میں شام سے کیمیائی حملے کی تحقیقات میں تعاون کے مطالبے کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن نے اپنے دورۂ روس کے آغاز پر کہا ہے کہ وہ روس سے گذشتہ ہفتے ہونے والے کیمیائی حملے کے بعد شامی صدر بشارالاسد کی مزید حمایت نہ کرنے کی درخواست کریں گے۔

خیال رہے کہ شام کے علاقے خان شیخون میں گذشتہ ہفتے مبینہ کیمیائی حملے میں 89 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ روس نے شام میں کیمیائی حملے کے بعد کی جانے والی امریکی فضائی کارروائی کی مذمت کی تھی۔

دوسری جانب امریکہ میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بدھ کو ایک قرارداد کے مسودے پر ووٹنگ متوقع ہے جس میں شام سے مطالبہ کیا جائے گا کہ حال ہی میں ہونے والے کیمیائی حملے پر ہونے والی تحقیقات میں تعاون کرے۔

روس کی جانب سے اس معاملے پر ویٹو استعمال کرنے کا امکان ہے۔

روس پر پابندیاں لگانے پر اتفاق نہ ہو سکا

’شام میں کیمیائی حملہ روسی ناکامی کے سبب ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریکس ٹیلرسن اپنے ہم منصب سرگی لاوورو کے ساتھ ملاقات کریں گے

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزین برگ کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد روس کے مشرق وسطیٰ میں اہم اتحادی ہیں اور ریکس ٹیلرسن کو اپنی اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ وہ صدر اسد کے لیے روسی حمایت میں کمی لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب گذشتہ روز جی سیون گروپ کے رکن ممالک میں بھی شام کے تنازعے کے حوالے سے روس پر نئی پابندیاں لگانے پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption واضح رہے کہ روس نے شام میں کیمیائی حملے کے بعد امریکی فضائی کارروائی کی مذمت کی تھی

تاہم منگل کو اٹلی میں ہونے والے اجلاس میں رکن ممالک اس بات پر متفق دکھائی دیے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے برسرِاقتدار رہنے کی صورت میں شام کے تنازعے کا حل ممکن نہیں۔

جبکہ برطانیہ کی جانب سے روس اور شام کے سینیئر فوجی اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی تجویز پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں