’ٹرمپ کے صدر بننے سے روس اور امریکہ کے تعلقات خراب ہوئے ہیں‘

روسی صدر ویلادیمر پوتن تصویر کے کاپی رائٹ EPA

روس کے صدر ولادی میر پوتن کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں برس جنوری میں امریکی صدر کا عہدہ سنھبالنے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات زیادہ خراب ہوئے ہیں۔

انھوں نے روسی ٹی وی کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان 'فوجی سطح' پر اعتماد کا رشتہ خاص طور پر خراب ہوا ہے۔

اقوام متحدہ میں شام سے کیمیائی حملے کی تحقیقات میں تعاون کے مطالبے کا امکان

جی سیون ممالک میں روس پر پابندیاں لگانے پر اتفاق نہ ہو سکا

'شام میں کیمیائی حملہ روسی ناکامی کے سبب ہوا'

ولادی میر پوتن کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب روس کے وزیرِ خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ شام میں گذشتہ ہفتے ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشدیگی کے تناظر میں ماسکو میں ملاقات کی ہے۔

امریکہ روس سے شامی حکومت کی حمایت ختم کرنے پر زور دیتا آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

واضح رہے کہ روس نے شام میں کیمیائی حملے کے بعد کی جانے والی امریکی کارروائی کی مذمت کی تھی۔

جب روسی صدر سے شامی فورسز پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ شام نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ تلف کر دیا ہے۔

ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات پر بات کرتے ہوئے ولادی میر پوتن کا مزید کہنا تھا کہ 'دونوں ممالک کے درمیان فوجی سطح پر اعتماد کی سطح، بہتر نہیں ہوئی، بلکہ خراب ہوئی ہے۔'

ماسکو میں امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن کے ساتھ ملاقات سے قبل روسی وزیرِ خارجہ سر گئی لوروف کا کہنا تھا کہ روس کو واشنگٹن سے جاری ہونے والے مبہم اور متضاد خیالات پر بہت سے سوالات ہیں۔

اس سے پہلے منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی ترجیح خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کو شکست دینا ہے اور امریکہ شام کی خانہ جنگی میں 'داخل نہیں ہو رہا'۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روسنبرگ کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد روس کے مشرق وسطیٰ میں اہم اتحادی ہیں اور ریکس ٹیلرسن کو اپنی اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ وہ صدر اسد کے لیے روسی حمایت میں کمی لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ روس شام میں ہونے والے کیمیائی حملے کے نتیجے میں 89 افراد کی ہلاکت کا الزام دوسروں پر عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی انٹیلیجنس کی اطلاعات کے مطابق شامی حکومت نے گذشتہ ہفتے شیخون میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جس میں 89 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شامی حکومت اس حملے کی تردید کرتی ہے اور اس کا الزام باغی افواج پر عائد کرتی ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بدھ کو ایک قرارداد کے مسودے پر ووٹنگ متوقع ہے جس میں شام سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ حال ہی میں ہونے والے کیمیائی حملے پر ہونے والی تحقیقات میں تعاون کرے۔

دوسری جانب گذشتہ روز جی سیون گروپ کے رکن ممالک میں بھی شام کے تنازعے کے حوالے سے روس پر نئی پابندیاں لگانے پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔

اسی بارے میں