بیسلان سکول محاصرہ، ’روس قتل عام روکنے میں ناکام رہا‘

بیسلان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سکول پر حملے میں 330 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 186 بچے شامل تھے

یورپیئن ہیومن رائٹس کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ روس سنہ 2004 میں بیسلان سکول میں یرغمالیوں کو بچانے میں ناکام رہا تھا۔ سکول کے اس محاصرے کے دوران 330 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عدالتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس محاصرے میں روسی فورسز نے چیچن باغیوں کے خلاف جنھوں نے ایک ہزار سے زائد افراد کو یرغمال بنایا ہوا تھا جن میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی، غیر مناسب طاقت کا استعمال کیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکام کو اس بات کی خبر تھی کہ حملہ ہونے والا ہے لیکن انھوں نے کچھ نہیں کیا۔

دوسری جانب سے روس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ’ناقابل قبول ہے‘ اور وہ اس کے خلاف اپیل کرے گا۔

اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے لیے جن میں 186 بچے بھی شامل ہیں، کسی بھی روسی عہدیدار کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔

بیسلان میں کیا ہوا تھا؟

چند مرد اور خواتین جنھوں نے نقاب اور خودکش جیکٹیں پہن رکھی تھیں بیسلان کے سکول نمبر ون میں گھسے اور فائر کھول دیے۔ اس وقت وہاں سکول کے نئے سال کی تقریب ختم ہونے والی تھی۔

یرغمالیوں کو سکول کے سپورٹس ہال میں رکھا گیا تھا اور انھیں یرغمال بنانے والوں کا مطالبہ تھا کہ روس چیچنیا سے اپنی افواج واپس بلائے۔

آخرکار اس سنگین محاصرے کا اختتام تیسرے روز خطرناک دھماکوں اور شدید فائرنگ پر ہوا۔ عینی شاہدین کا کہنا ے کہ روسی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے آپریشن کے دوران شدید طاقت اور بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روسی حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ 'ناقابل قبول' ہے۔

بچ جانے والوں اور رشتہ داروں کا کیا کہنا ہے؟

ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس حملے میں بچ جانے والے اور ان کے رشتہ داروں کا یہ سوال ہے کہ کیا اس محاصرے کو روکا جا سکتا تھا اور کیا ریسکیو آپریشن میں اتنے لوگوں کو مرنا ہی تھا؟

ان کا کہنا ہے کہ حکام جن میں صدر ولادیمیر پوتن بھی شامل ہیں اس صورتحال سے غلط انداز میں نمٹے اور انھوں نے خفیہ اداروں کی جانب سے دی جانے والی اطلاعات کہ ایسے حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کو نظر انداز کیا۔

عدالت نے کیا فیصلہ سنایا؟

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ روس کے پاس اس حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے کافی معلومات موجود تھیں لیکن اس نے کچھ نہیں کیا۔

عدالت نے انتظامیہ کو حملے والے دن شدت پسندوں کو آپس میں ملنے اور سفر کرنے سے نہ روکنے اور سکول کی سکیورٹی نہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ عوام کو خبردار نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس کے علاوہ عدالت کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ’سکول کو آزاد کروانے کے لیے ٹینک، توپ، گرینیڈ لانچر اور آگ برسانے والے بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔‘

عدالتی فیصلے کے مطابق روس کو معاوضے کے طور پر 29 لاکھ یورو ادا کرنے ہوں گے۔

روس کا ردعمل؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روسی حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ ’ناقابل قبول‘ ہے۔

حکومتی ترجمان دیمتری پیسکوو نے کہا ہے کہ ’ایک ایسے ملک کے متلعق جہاں ایک سے زیادہ دہشت گردوں کے حملے ہو چکے ہوں اس قسم کے فیصلے سے ہم یقینی طور پرمتفق نہیں ہو سکتے۔‘

وزارت انصاف نے بہت زیادہ طاقت کا استعمال کیے جانے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تین ماہ کے عرصے کے دوران اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہے۔

وزارت انصاف کی جانب سے مزید کہا کہ ہے کہ ’عدالت بیسلان میں یرغمال بنائے جانے کے بعد کی صورتحال کی سنجیدگی کو نہیں سمجھ پا رہی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں