امریکہ اکسانے والے اقدام نہ کرے کیونکہ ہم جواب میں جوہری حملوں کے لیے تیار ہیں: شمالی کوریا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
شمالی کوریا کی فوجی طاقت کا مظاہرہ

شمالی کوریا کے بانی صدر کم ال سنگ کی ایک سو پانچویں ویں یوم پیدائش کی تقریبات کے موقع پر شمالی کوریا نے سنیچر کو بظاہر اپنا ممکنہ جوہری تجربہ کرنے سے گریز کیا لیکن اپنی جدید عسکری قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر امریکہ کو متنبہ ضرور کیا ہے۔ پیانگ یانگ میں ہونے والی فوجی پریڈ میں شمالی کوریا نے پہلی بار بیلسٹک میزائل کی نمائش کی جو آبدوز سے لانچ کیے جانے والے میزائل سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس میزائل میں ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی ہے۔

کسی بھی وقت لڑائی چھڑ سکتی ہے: چین

’شمالی کوریا ہتھیاروں کی طاقت سے اپنا دفاع کرے گا‘

شمالی کوریا نے سمندر میں میزائل داغ دیا

اس موقع پر شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ اُن کے قریبی ساتھی چوے ریونگ اھے نے جو کہ ملک کے دوسرے سب سے طاقتور شخص سمجھے جاتے ہیں، خطاب کرتے ایک بار پھر امریکہ کو خبر دار کیا۔

انھوو نے کہا: ’اگر امریکہ ہمارے خلاف لاپرواہی پر مبنی اشتعال انگیزی کرتا ہے، تو ہماری انقلابی قوت فوری طور پر اس کا سنگین جواب دے گی۔ ہم بھرپور جنگ کا اور جوہری جنگ کا اپنے انداز میں جوہری حملے سے جواب دیں گے۔

اس موقع پر پیانگ یانگ میں سنیچر کو فوجیوں، ٹینک اور اسلحے کی پریڈ کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خدشہ ظاہر کی جا رہا ہے کہ جنوبی کوریا کہ سربراہ مزید جوہری تجربوں کا حکم دے سکتے ہیں

پیانگ یانگ کے کم ال سنگ سکوائر سے ملک کے سربراہ کم جونگ اُن نے فوجی کی پریڈ دیکھی۔ انھوں نے کالا سوٹ پہن رکھا تھا اور وہ زیادہ تر مطمئن نظر آئے۔

شمالی کوریہ کی طرف سے یہ بیان اس وقت آیا ہے جب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما جم جونگ ان ایک اور ایٹمی تجربے کا حکم دے سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شمالی کوریا کے عسکری حکام نے بیان میں کہا ہے 'ہم جنگ کا جواب جنگ سے دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ہم پر نیوکلیئر حملہ کیا گیا تو ہم اپنے انداز سے ایٹمی حملہ کر کے جواب دینے کو تیار ہیں۔'

چین کو تشویش

شمالی کوریا کا قریبی اتحادی ملک چین پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ شمالی کوریا کے حوالے سے کشیدگی بڑھ رہی ہے اورکسی بھی وقت لڑائی چھڑ سکتی ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے ایک بیان میں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔

انھوں نے کہا: ’اگر جنگ شروع ہوتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ جیت کسی کی بھی نہ ہو۔ ہم فریقین سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو اکسانے اور دھمکانے سے اجتناب کریں، چاہے ایسا الفاظ سے کیا جا رہا ہو یا اقدامات سے صورتحال کو ایسا نہ ہونے دیں جسے سنبھالنا مشکل ہو جائے۔‘

چینی وزیر خارجہ نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے حالات میں بڑتی ہوئی کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے روسی ہم منصب کو ٹیلی فون کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں بیجنگ روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

چین کی تشویش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جمعرات کو کیے گئے اس تبصرے سے اور بھی بڑھ گئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 'شمالی کوریا کے مسئلے کو دیکھ لیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’اگر چین مدد کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو وہ بہت اچھا ہو گا۔ اگر نہیں کرتا، تو ان کے بغیر ہی اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔'

شمالی کوریا کی فوج نے اگلے دن اس کے ردعمل میں کہا تھا کہ وہ کسی امریکی حرکت کو بے رحمی سے ناکام کر دے گی۔

امریکی صدر نے حالیہ دنوں میں فوجی کارروائیوں کے لیے اپنی رضا مندی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے پہلے شام میں ایک کیمیائی حملے کے بدلے میں شام میں میزائل حملوں کا حکم دیا اور اس کے بعد امریکی فوج نے افغانستان میں نام نہاد دولتِ اسامیہ کے ٹھکانوں پر سب سے بڑا بم گرایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں