شام میں پناہ گزینوں کی بسوں پر بم حملہ، درجنوں افراد ہلاک

شام تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption بم دھماکے سے متاثر افراد طبی امداد کا انتظار کرتے ہوئے

شام میں حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں سے پناہ گزینوں کو لے جانے والی بسوں کے قافلے پر بم حملے کے نتیجے میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مرنے والوں میں بچے بھی شامل تھے۔ بم دھماکے کی وجہ سے بسوں اور گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور سڑک پر لاشیں بکھر گئیں۔ یہ واقعہ شام میں باغیوں کے زیر انتظام علاقے راشدین میں پیش آیا۔

باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں سے معاہدے کے تحت جانے والے افراد کو نشانہ بنائے جانے کا پہلے سے خطرہ تھا۔

شام کا بحران: باغی امن مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار

شام کا بحران: برطانوی وزیرخارجہ کا دورۂ ماسکو منسوخ

روسی فوجی باغیوں کے حامی پناہ گزینوں کی حفاظت کے لیے علاقے میں داخل ہو گئے ہیں۔

شام کی خانہ جنگی سے متاثر ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین مخالف علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

دونوں فریقوں نے 'چار علاقوں' کے بارے میں معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق جنگ سے متاثرہ لوگوں کے لیے مدد کی جانی تھی۔

اس معاہدے کے مطابق 30000 افراد باغیوں اور حکومت کے دو دو علاقوں سے نکالے جانے تھے لیکن اب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکومتی علاقوں سے نکالے جانے والے 5000 اور باغیوں کے علاقوں سے نکالے جانے والے 2200 افراد اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بم دھماکے سے تباہ ہونے والی ایک بس

اطلاعات کے مطابق تقریباً ساڑھے تین بجے مقامی وقت پر ایک چیک پوائنٹ پر بم دھماکہ ہوا۔ شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق اب تک 39 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 24حلب نامی نیوز ویب سائٹ کے مطابق اب تک 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہویمن رایئٹس کے مطابق ایک خود کش حملہ آور وین چلاتے ہوئے بسوں کے نزدیک جا کر پھٹ گیا۔ ایک عینی شاہد نے واقعہ کا نقشہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ 'میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی ہیں۔ اب کئی جلی ہوئی گاڑیاں دیکھ سکتے ہیں۔ ایمرجنسی اہلکار زخمیوں اور مرنے والوں کو لے جارہے ہیں۔'

حلب میں موجود اے ایف پی کے ایک نمائندہ نے بتایا کہ پناہ گزینوں کو لے جانے والی بسیں گذشتہ 40 گھنٹوں سے نہیں ہلی تھیں جبکہ شام کی ہلال احمر تنظیم انتظار کرتے ہوئے مسافروں کے کھانے پینے کے انتظام میں مدد کر رہی تھی۔

مدایا کے علاقے سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں نے ایک بیان میں عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ ان کی مدد کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین گذشتہ تیس گھنٹوں سے بسوں کے قافلے کے چلنے کا انتظار کر رہے تھے

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں