ترکی: صدر اردوغان کی جیت،’ریفرینڈم کے نتائج درست ہیں‘

ترکی، اپوزیشن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اپوزیشن جماعت کے حامی ریفرنڈم کے نتائج کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں

ترکی کے الیکٹورل بورڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک میں اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم کے نتائج درست ہیں۔

ترکی میں صدارتی اختیارات کے حوالے سے ہونے والے اس ریفرینڈم میں 51.4 فیصد لوگوں نے صدارتی اختیارات کو وسعت دینے کے حق میں ووٹ ڈالے جس کے بعد اب صدر رجب طیب اردوغان کو نہ صرف وسیع تر اختیارات حاصل ہوں گے بلکہ ان کے نتیجے میں وہ ممکنہ طور پر سنہ 2029 تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔

ترکی: صدر کےاختیارات میں اضافے کے لیے ریفرنڈم کا اعلان

اختیارات میں اضافہ، نیا قانون، ابتدائی منظوری

ہائے الیکٹورل بورڈ کے سربراہ سعدی گوون کا یہ بیان ملک میں حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت رپبلکن پیپلز پارٹی کی جانب سے ریفرینڈم میں مبینہ بےضابطگیوں پر سوال اٹھانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سعدی گوون نے کہا کہ غیر مہر شدہ ووٹ ہائے الیکٹورل بورڈ کے سامنے پیش کیے گئے تھے اور وہ قانونی طور پر درست ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پچھلے انتخابات میں بھی ووٹنگ کے حوالے سے شکایاتوں کو حل کرنے کے لیے اس سے ملتا جلتا طریقہ اپنایا گیا تھا۔

دوسری جانب ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت رپبلکن پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ وہ ملک میں ہونے والے حالیہ ریفرنڈم کے نتائج کو چیلنج کرے گی۔

ریفرنڈم کے نتائج میں اردوغان کی کامیابی پر ملک میں ایک جانب جشن اور دوسری جانب احتجاج کیا جا رہا ہے۔

سی ایچ پی نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور 60 فیصد ووٹوں کی دوبارہ سے گنتی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترکی کے تین بڑے شہروں استنبول، انقرہ اور ازمیر میں رہنے والے ووٹرز کا رجحان صدارتی اختیارات کی توسیع کے خلاف تھا۔

ننانوے اعشاریہ نو سات فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے جس کے بعد اب تک اختیارات میں توسیع کے حق میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد اکیاون اعشاریہ چار ایک فیصد جبکہ ان کے خلاف ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد اڑتالیس اعشاریہ پانچ نو فیصد رہی ہے اور ٹرن آؤٹ 85 فیصد رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

طیب رجب اردوغان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کو جدید طرز پر لانے میں مدد ملے گی۔ تاہم ان کے مخالفین کو خدشہ ہے کہ یہ آمریت کا باعث بن سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دیاربکر نامی صوبے کے جنوب مشرقی شہر علاقے میں تین افراد ایک پولنگ سٹیشن پر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے۔

اس سے قبل صدر رجب طیب اردوغان نے استنبول میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ریفرنڈم میں فتح کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ان کی جماعت کو واضح اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

نتائج صدر اردوغان کے حق میں آنے کے بعد انھیں کابینہ کے وزرا، ڈگری جاری کرنے، سینیئر ججوں کے چناؤ اور پارلیمان کو برخاست کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔

ادھر پاکستان نے بھی ترکی کی موجودہ حکومت اور ان کے عوام کو کامیاب ریفرینڈم کے انعقاد پر مبارک باد دی ہے۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ ریفرینڈم میں 'ہاں' کی جیت ترک عوام کے جذبات کی عکاسی ہے کہ اور ظاہر کرتی ہے کہ وہ مضبوط ترکی کی خواہش رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر رجب طیب اردوغان ملک کے پارلیمانی نظام کو ایگزیکٹو صدارت سے بدلنا چاہتے ہیں۔

نئے آئین میں کیا ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مسودے کے مطابق اگلے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات تین نومبر 2019 میں منعقد ہوں گے۔

صدر کی مدت اقتدار پانچ سال ہوگی اور اس کا انتخاب زیادہ سے زیادہ دو بار کیا جا سکتا ہے۔

  • صدر براہ راست اعلیٰ حکام جن میں وزار بھی شامل ہیں کو تعینات کر سکتا ہے۔
  • صدر کے پاس ایک یا کئی نائب صدر متعین کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔
  • وزیر اعظم کا عہدہ جو اس وقت بن علی یلدرم کے پاس ہے کو ختم کر دیا جائے گا۔
  • صدر کے پاس عدلیہ میں مداخلت کرنے کا اختیار بھی ہوگا، جو صدر اردوغان کے مطابق فتح اللہ گولن کے دباؤ میں آ چکی ہے۔
  • ملک میں ایمرجنسی کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بھی صدر کرے گا۔

ترکی میں سنیچر کو سیاست دانوں نے ریفرینڈم کے لیے ہونے والی مہم کے آخر روز ووٹروں سے ووٹ ڈالنے کی اپیلیں کیں۔

ریفرینڈم کے لیے 1,67,000 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے جہاں ساڑھے پانچ کروڑ ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ترکی میں صدارتی اختیارات پر ریفرینڈم

ترکی کے صدر کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

استنبول میں ریفرینڈم سے قبل آخری ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اردوغان نے اپنے حامیوں کو بتایا تھا کہ 'نئے آئین سے ملک میں استحکام اور اعتماد آئے گا جو ملکی ترقی کی ضرورت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی کے ریفرینڈم میں ایک خاتون اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے

ترک پارلیمان نے جنوری میں آئین کے آرٹیکل 18 کی منظوری دی تھی تاہم اس موقع پر پارلیمان میں ہاتھا پائی بھی دیکھنے کو ملی۔

ترکی میں گذشتہ برس ملک میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد میڈیا اور دیگر اداروں کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے تاہم صدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے استحکام کے لیے تبدیلیاں ضروری ہیں۔

نئی اصلاحات کے تحت ملک کے وزیراعظم کا عہدہ موجودہ وزیراعظم بن علی یلدرم کے بجائے کسی اور شخصیت کے پاس جائے گا یا پھر اس عہدے کے جگہ نائب صدر لیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں