بدعنوانی کے الزامات، جنوبی کوریا کی سابق صدر پارک گن ہے پر فردِ جرم عائد

کوریا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی کوریا کی معزول صدر پارک گن ہے

جنوبی کوریا کی سابق صدر پارک گن ہے پر بدعنوانی کے سکینڈل میں باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے ہی مواخذے کے بعد پارک گن ہے کو گذشتہ ماہ ملک کی صدارت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے صدر کو برطرف کردیا

جنوبی کوریا میں برطرف صدر کی گرفتاری کے لیے مظاہرے

سرکاری وکلا نے کہا ہے کہ پارک گن پر لگائے گئے الزامات میں رشوت، جبر و زبردستی، طاقت کا ناجائز استعمال اور حکومتی راز ظاہر کرنا شامل ہیں۔

65 سالہ پارک گن ہے اس وقت زیرِ حراست ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی قریبی دوست چوئی سون سل کو اجازت دی کہ وہ کمپنیوں سے سیاسی فوائد کے بدلے رقم وصول کر سکیں۔

دونوں خواتین بدعنوانی کے الزامات سے انکار کرتی رہی ہیں۔

سابق صدر پر اس بات کا بھی الزام ہے کہ انھوں نے اپنی دوست کو خفیہ حکومتی دستاویزات تک رسائی دی تھی۔

چوئی سن سل پر الزام ہے کہ انھوں نے صدر سے اپنے تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف کمپنیوں پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ لاکھوں ڈالرز کے عطیات ان اداروں کو دیں جن کا انتظام چوئی سون سل کے پاس تھا۔

ان کمپنیوں میں جنوبی کوریا کی سب سے بڑی کمپنی سام سنگ بھی شامل ہے اور اس کے عبوری سربراہ لی جائے یونگ بھی زیر حراست ہیں۔

پارک گن ہے کا پچھلے سال دسمبر میں کرپشن سکینڈل میں ملوث ہونے کی وجہ سے پارلیمان میں مواخذہ ہوا تھاـ

اس سال مارچ میں جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے ان کے مواخذے کو درست قرار دیتے ہوئے انھیں صدر کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں