فرانس کا صدارتی انتخاب، صفِ اول کے پانچ امیدواروں کا تعارف

فرانس میں اتوار 23 اپریل کو ووٹرز ملک کے نئے صدر کو منتخب کریں گے۔ اگر کوئی بھی امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹ نہ لے سکا تو یہ انتخاب دوسرے مرحلے میں چلا جائے گا۔

دوسری مرحلے میں پہلے اور دوسرے نمبر کے دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔

٭ فرانس میں بھی بنیادپرست اسلام اور عالمگیریت کے خلاف لہر

اِن انتخابات کو یورپ کے مستقبل کے لیے بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے جس میں شامل صفِ اول کے پانچ امیدواروں کا تعارف دیا گیا ہے۔

فرانسوا فیوں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فرانسوا فیوں چند مہینے پہلے سب سے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے لیکن ایک سکینڈل کی زد میں آ گئے۔

اِن پر الزام ہے کہ اِن کی بیوی کو اِن کی پارلیمانی اسسٹنٹ کی حیثیت سے گذشتہ آٹھ برسوں کے دوران آٹھ لاکھ یورو سے زائد رقم ادا کی گئی۔ اور یہ ایک فرضی نوکری تھی۔ فرانسوا فیوں امیدواری کی ریس میں سابق صدر نیکولا سرکوزی کو ہرا کر دائیں بازو کے امیدوار بننے ہیں۔ اِن کا تعلق رپبلکن پارٹی سے ہے۔

اب رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اِن کی مقبولیت میں اچانک کمی آئی ہے جو اِس انتخاب کا سب سے بڑا اپ سیٹ ہو گا۔ یہ فرانس میں 35 گھنٹے فی ہفتہ کام کے نظام کو ختم کر کے کمپنیوں کو یہ اختیار دینا چاہتے ہیں کہ وہ یہ اپنے ملازمین کے ساتھ خود طے کریں۔

ماری لا پین

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل فرنٹ کی رہنما ماری لا پین فرانس کو یورو سے باہر نکالنا چاہتی ہیں۔ تارکین وطن اور مسلمانوں کے بارے میں مخالفانہ اور سخت گیر نظریات رکھنے والی اِس سیاستدان نے اپنی جماعت کے بعض سخت نظریات سے ہٹنے کی کوشش کی ہے۔

اِس کے لیے انہیں اپنے والد اور نیشنل فرنٹ کے بانی ژاں میری لا پین کی مخالفت بھی کرنی پڑی۔ مبصرین کے مطابق اِن کی کوشش ہے کہ اپنی پارٹی کو عوام میں زیادہ قابلِ قبول بنایا جائے جو انتہائی سخت گیر نظریات کے ساتھ ممکن نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اِن کا نعرہ ہے 'سب سے پہلے فرانس' جس کے لیے وہ بقول اِن کے فرانس کو اسلامی بنیاد پرستی، عالمگیریت اور یورپی یونین سے نجات دلائیں گی۔

برطانیہ میں بریگزٹ اور امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے بعد سب کی نظریں فرانس کے صدارتی انتخاب پر ہیں کہ ماری لا پین دائیں بازو کی اِس پاپولسٹ سیاسی لہر کو جاری رکھ پائیں گی یا نہیں۔ اگر وہ ایسا کر لیتی ہیں تو یورپی یونین پر اِس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

بونوا ایموں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اِن کا تعلق موجودہ صدر فرانسوا اولاند کی سوشلسٹ پارٹی سے ہے۔ انہوں نے امیدوار بننے کی دوڑ میں حیرت انگیز طور پر سابق وزیراعظم مینویل والس کو شکست دی تھی۔ موجودہ حکومت کے دور میں معاشی سرگرمیاں سست اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور انہیں موجودہ حکومت کے تسلسل کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

مینیول میکغوں

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اِن کا تعلق موجودہ صدر فرانسوا اولاند کی سوشلسٹ پارٹی سے تھا۔ انہوں نے موجودہ حکومت کے وزیرِ خزانہ کا عہدہ چھوڑ کر اپنی نئی سیاسی جماعت بنا لی تھی تا کہ صدارتی انتخاب میں حصہ لے سکیں۔

رائے عامہ کے اب تک کے جائزوں کے مطابق امینیول میکخواں کافی مقبول ہیں اور اِن کا ماری لی پین کے ساتھ کانٹے کا مقابلہ ہے۔ یہ یورپی یونین کے اور لبرل معاشی پالیسیوں کے حامی ہیں۔ فرانسوا فیلن کے سکینڈل کے بعد یہ صفِ اول کے امیدوار بن کر ابھرے ہیں۔

ژاں لوک میلوں شوں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ انتہائی بائیں بازو کے رہنما ہیں اور حالیہ دنوں میں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اِن کی عوامی پذیرائی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ آزاد امیداوار ہیں جو فرانس کے موجودہ آئین کو ختم کر کے ایک نئے آئین کے حق میں ہیں۔ یہ فرانس کو ایک ماحول دوست اور انسانیت دوست معاشرے والا ملک بنانا چاہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں