میری بطور ڈسٹرکٹ جج تقرری ایک اہم پیغام ہے: ڈاکٹر فیاض افضل

ڈاکٹر فیاض افضل تصویر کے کاپی رائٹ Staffordshire University
Image caption ڈاکٹر فیاض افضل اپنے خاندان میں سے یونیورسٹی جانے والے پہلے فرد تھے

اگر دیکھا جائے تو ڈاکٹر فیاض افضل میں وہ تمام چیزیں موجود ہیں جو برطانوی معاشرے کے کچھ حلقوں میں عام طور پر کامیابی حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ سمجھی جاتی ہیں۔

وہ ایشیائی نژاد ہیں، پاکستانی ہیں، مسلمان ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بصارت سے محروم ہیں لیکن ڈاکٹر فیاض نے ان میں سے کسی بھی چیز کو اپنی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

حال ہی میں جب انھیں ڈربی کمبائنڈ کراؤن کورٹ کا ڈسٹرکٹ جج تعینات کیا گیا تو وہ پہلے ایشیائی قانون دان بنے جو بصارت سے محروم ہونے کے باوجود اس اعلیٰ عدالتی عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

ڈاکٹر فیاض پیدائشی طور پر نابینا نہیں تھے لیکن آنکھوں کی بیماری ریٹینس پِگمنٹوسا کی وجہ سے پانچ سال کی عمر میں ان کی نظر کمزور ہونا شروع ہوئی اور دس سال کے اندر وہ بینائی سے مکمل طور پر محروم ہوگئے۔

ان کا خاندان پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کے علاقے راجدھانی سے نقل مکانی کر انگلینڈ کے شہر راچڈیل میں آباد ہوا تھا۔

ڈاکٹر افضل راچڈیل میں ہی پیدا ہوئے اور انھوں نے وہیں ایک ورکنگ کلاس ماحول میں پرورش پائی۔ وہ اپنے خاندان میں سے یونیورسٹی جانے والے پہلے فرد تھے۔

انھوں نے سٹیفورڈشائر یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور جب انھیں 1999 میں بیرسٹر بنے تو وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے نابینا ایشیائی نژاد شخص تھے۔

انھیں 2008 میں ملکہ برطانیہ کی سالگرہ کے موقع پر او بی ای کا اعزاز عطا کیا گیا جبکہ 2010 میں ان کی مادر علمی سٹیفورڈشائر یونیورسٹی نے انھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔

اسی سال انھیں جزوقتی ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج اور 2015 میں نارتھ ویسٹ انگلینڈ کے لیے ریکارڈر مقرر کیا گیا۔

بی بی سی ایشیئن نیٹ ورک کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ڈاکٹر فیاض افضل نے کہا کہ ان کی ڈسٹرکٹ جج تقرری ایک اہم پیغام ہے۔ وہ یہ کہ یہاں کی سوسائٹی کو یہ تسلی ہونی چاہیے کہ جو آدمی جو کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے چاہے وہ ایشیائی ہو، مسلمان ہو یا کسی جسمانی معذوری کا شکار ہو۔

'یہ تمام باتیں مجھ میں موجود ہیں۔ میں ورکنگ کلاس بیک گراؤنڈ سے ہوں، ایشیائی ہوں، معذور ہوں۔ ان تمام باتوں کے باوجود مجھے یہ موقع ملا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے یا سوسائٹی ان کے خلاف ہے، یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ میرے خیال میں انھیں یہ تسلی رکھنی چاہیے کہ وہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں اور میری تعیناتی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔'

متعلقہ عنوانات