فرانس انتخابات: ماری لاپین کا ہر قسم کی امیگریشن معطل کرنے کا وعدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

فرانس کے صدارتی انتخاب میں صفِ اول کے امیدواروں میں شامل ماری لاپین کا کہنا ہے کہ وہ انتخاب جیتنے کے بعد ملک میں قانونی طریقے سے آنے والوں کا سلسلہ بھی معطل کر دیں گے۔

دائیں بازو کی جماعت نیشنل فرنٹ پارٹی کی رہنما نے ایک ریلی سے خطاب میں کہا کہ وہ ’پاگل پن اور قابو سے باہر صورتحال‘ کو روکنا چاہتی ہیں۔

* فرانس کا صدارتی انتخاب، کون کیا؟

* فرانس میں بھی بنیادپرست اسلام اور عالمگیریت کے خلاف لہر

اتوار کو پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں ان کا امینیول میکغوں کے ساتھ کڑا مقابلہ رہا۔

انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل فرنٹ کی رہنما ماری لاپین فرانس کو یورو سے باہر نکالنا چاہتی ہیں اور ان کے تارکین وطن اور مسلمانوں کے بارے میں سخت گیر نظریات رکھتی ہیں۔

انھوں نے اپنی پارٹی کو عوام میں زیادہ قابلِ قبول بنانے کے لیے جماعت کے بعض سخت نظریات سے ہٹنے کی کوشش کی ہے۔

اِن کا نعرہ ہے 'سب سے پہلے فرانس' جس کے لیے بقول اِن کے وہ فرانس کو اسلامی بنیاد پرستی، عالمگیریت اور یورپی یونین سے نجات دلائیں گی۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امینیول میکغوں اور ماری لاپین سات مئی کو ہونے والے دوسرے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں تاہم دونوں میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔

بی ایف ایم ٹی وی کے لیے کیے گئے ایک پول کے مطابق امینیول میکغوں کو پہلے مرحلے میں 24 فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ ماری لاپین 23 فیصد، فرانسوا فیوں 19.5 فیصد جبکہ ژاں لوک میلوں شوں کو 18 فیصد ووٹ ملے۔

انتخابی جائزوں کے مطابق امینول میکغوں ان انتخابات کے لیے پسندیدہ امیدوار ہیں۔

برطانیہ میں بریگزٹ اور امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے بعد سب کی نظریں فرانس کے صدارتی انتخاب پر ہیں کہ آیا ماری لاپین دائیں بازو کی اِس سیاسی لہر کو جاری رکھ پائیں گی یا نہیں۔ اگر وہ ایسا کر لیتی ہیں تو یورپی یونین پر اِس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

اسی بارے میں